ابن مریم — Page 233
۲۳۷ ساتھ عیسوی معاملہ در پیش رہتا ہے۔جید اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔☑ یسوع ناصری نے اپنا قدم قرآن کی تعلیم کے موافق رکھا۔اس لئے اس نے خدا سے انعام پایا۔ایسا ہی جو شخص اس پاک تعلیم کو اپنا یہاں یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ اگر مقام عیسوی مرتبہ رسالت ہے تو اس قدر لوگ مقام نبوت پر فائز کیسے ہوئے۔حالانکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف ایک نبی کی خبر دی ہے اور یہ بھی فرمایا ہے کہ (ألا إنه ليس بيني وبينه نبي ولا رسول»۔(طبراني في الأوسط والكبير۔اس کا جواب یہ ہے کہ مقام عیسوی پر پہنچنے والے امت میں بے شک کئی اولیاء اللہ ہیں لیکن ان کو نبی کا لقب نہیں دیا گیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا علماء أمتي كأنبياء بنى اسراءيل»۔بهجة النظر بر حاشية نزهة النظر شرح نخبة الفكر : ص ٤ الى ایسے لوگ بنی اسرائیل کے نبیوں کی مانند ہوں گے۔یعنی ان کا مرتبہ نبیوں کا ہے لیکن نام نبی نہیں رکھا گیا۔ان میں صرف ایک شخصیت ایسی ہے کہ جس کی آمد کی خبر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دی تو اسے مسیح اور نبی کا لقب عطا فرمایا۔اسے پھر اللہ تعالی نے بھی نبی کہہ کر پکارا اور حضرت مسیح علیہ السلام سے کمال مشابہت عطا فرمائی۔اس مسئلہ کا قرآن کریم نے ایک اور پہلو بھی بیان فرمایا ہے وہ آیت سَلَامُ عَلَى الْيَاسِينَ میں مذکور ہے۔اس آیت میں حضرت الیاس پر ہی سلامتی نہیں بھیجی گئی بلکہ ان کے ساتھ اور الیاس بھی جمع کر دئے گئے ہیں۔حضرت مسیح علیہ السلام نے یحی علیہ السلام کو ایلیا قرار دے کر انہیں الیاس ثابت کیا اور اپنے لئے ارہاص کے طور پر بیان فرمایا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت سید احمد شہید کو اپنے لئے الیاس کے رنگ میں