ابن مریم — Page 231
۲۳۵ کی طرح بدل لو گے ، تم نئے انسان ہو گے۔اسی کا نام اصطلاح تصوف میں ولادت ثانیہ ہے۔چنانچہ تمام صوفیاء اس لفظ "ولادت " کو استعمال کرتے ہیں۔مشہور صوفی حضرت سہیل رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔الخوف ذكر والرجاء انثى معناه منهما تولد حقائق الإيمان»۔(شرح التعرف (قلمي) ص ٥٧)۔یعنی خوف مذکر ہے اور امید مونث۔ان کے ملنے سے حقیقت ایمان پیدا ہوتی ہے۔مریم سے عیسیٰ بننے کی کیفیت اور ولادت معنوی کے بارہ میں حضرت مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ اپنی مثنوی میں فرماتے ہیں۔ہمچو مریم جان ز آسیب حبیب حاملہ شد از مسیح دلفریب کہ مریم کی جان حبیب کے سائے سے حاملہ ہوئی اور اس نے دلفریب مسیح کو حمل میں لیا۔یعنی مریم صفت مومن پر جب اللہ تعالی نفخ روح کرتا ہے تو وہ عیسوی بچے کو روحانی طور پر حمل میں لے لیتا ہے۔پھر ایک اور مقام پر فرمایا۔اند جان با در اصل خود عیسی دم زماں زخم اند دیگر مرہم اند گر حجاب از جان با برخاسته گفت ہر جانے مسیحا آساستے یعنی جانیں اپنے اصل کے لحاظ سے عیسی دم ہی ہیں۔کبھی وہ زخم ہوتی ہیں ہی وہ ہوتی اور کبھی مرہم۔اگر جانوں سے حجاب اٹھ جائے تو ہر جان کہنے لگے کہ میں مسیح ہی کی طرح ہوں۔چنانچہ ان صفات سے متصف اولیاء اللہ اور کاملین نے عیسی ہونے کا دعوی