ابن مریم — Page 226
۲۳۰ وو نہیں کی۔اسی مقام محفوظ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ بالا حدیث میں بتایا ہے کہ ہر مریمی صفت اور عیسوی صفت مومن دام شیطان سے محفوظ رہے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔روح القدس کا تعلق تمام نبیوں اور پاک لوگوں سے ہوتا ہے پھر مسیح کی اس میں کیا خصوصیت ہے ؟ اس کا جواب یہی ہے کہ کوئی خصوصیت نہیں بلکہ اعظم اور اکبر حصہ روح القدس کی فطرت کا حضرت سیدنا محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہے۔لیکن چونکہ یہود شریر الطبع نے حضرت مسیح پر بہتان لگایا تھا کہ ان کی ولادت روح القدس کی شراکت سے نہیں بلکہ شیطان کی شراکت سے ہے یعنی ناجائز طور پر۔اس لئے خدا نے اس بہتان کی ذب اور دفع کے لئے اس بات پر زور دیا کہ مسیح کی پیدائش روح القدس کی شراکت سے ہے اور میں مس شیطان سے پاک ہے۔اس سے یہ نتیجہ نکالنا لعنتیوں کا کام ہے کہ دوسرے نبی مس شیطان سے پاک نہیں ہیں۔بلکہ یہ کلام محض یہودیوں کے خیال باطل کے دفع کے لئے ہے کہ مسیح کی ولادت مس شیطان سے ہے یعنی حرام طور پر۔پھر چونکہ یہ بحث مسیح میں شروع ہوئی اس لئے روح القدس کی پیدا ا ضرب المثل مسیح ہو گیا۔ورنہ اس کو ، پیدائش میں حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک ذرہ ترجیح نہیں بلکہ دنیا میں معصوم کامل صرف محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم ظاہر ہوا ہے۔اور بعض حدیثوں کے یہ الفاظ کہ مس شیطان سے پاک صرف اور اس کی ماں یعنی مریم ہے۔یہ لفظ بھی یہودیوں کے مقابل پر مسیح کی پاکیزگی ظاہر کرنے کے لئے ہے گویا یہ فرماتا ہے کہ دنیا میں صرف دو گروہ ہیں۔ایک وہ جو آسمان پر کہلاتے ہیں اگر