ابن مریم — Page 216
۲۱۹ پھیلایا ہے اور خدائے واحد لا شریک کی کسر شان کی ہے۔یہ تمام فتنہ بچے دلائل اور روشن براہین اور پاک نشانوں کے ذریعہ فرو کیا جائے۔اس بات کی کس کو خبر نہیں کہ دنیا میں اس زمانہ میں ایک ہی فتنہ ہے جو کمال کو پہنچ گیا ہے اور الہی تعلیم کا سخت مخالف ہے یعنی کفارہ اور تثلیث کی تعلیم جس کو صلیبی فتنہ کے نام سے موسوم کرنا چاہئے۔کیونکہ کفارہ اور تثلیث کی تمام اغراض صلیب سے وابستہ ہیں۔سو خدا تعالیٰ نے آسمان پر سے دیکھا کہ یہ فتنہ بہت بڑھ گیا ہے اور یہ زمانہ اس فتنہ کے تموج اور طوفان کا زمانہ ہے۔پس خدا نے اپنے وعدہ کے موافق چاہا کہ اس صلیبی فتنہ کو پارہ پارہ کرے۔اور اس نے ابتداء سے اپنے نبی مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ خبر دی تھی کہ جس شخص کی ہمت اور دعا اور قوت بیان اور تاثیر کلام اور انفاس کافرکش سے یہ فتنہ فرد ہو گا اس کا نام اس وقت عیسی اور مسیح موعود ہو گا۔نیز فرمایا انجام آتھم۔روحانی خزائن۔جلد ۱ صفحہ ۴۶ ) آخری زمانہ میں عیسائی مذہب اور حکومت کا زمین پر غلبہ ہو گا اور مختلف قوموں میں بہت سے تنازعات مذہبی پیدا ہوں گے۔اور ایک قوم دوسری قوم کو دبانا چاہے گی اور ایسے زمانہ میں صور پھونک کر تمام قوموں کو دین اسلام پر جمع کیا جاوے گا یعنی سنت اللہ کے موافق آسمانی نظام قائم ہو گا اور ایک آسمانی مصلح آئے گا۔در حقیقت اس مصلح کا نام مسیح وعود ہے کیونکہ جبکہ فتنہ کی بنیاد نصاری کی طرف سے ہوگی اور خدا تعالیٰ کا بڑا مطلب یہ ہوگا کہ ان کی صلیب کی شان کو توڑے۔اس لئے جو شخص نصاری کی دعوت کے لئے بھیجا گیا بوجہ رعایت حالت اس قوم کے