ابن مریم — Page 187
۱۸۹ مخالفین کی یہی کوشش رہی کہ آپ پر کوئی ایسی موت آئے جو آپ کے لئے ذلت کے سامان اور قہر الہی کے نشان اپنے اندر رکھتی ہو۔لیکن ادھر خدا تعالیٰ کا آپ سے وہی وعدہ تھا جو حضرت عیسی علیہ السلام سے تھا کہ : (تذكرة ص ٥٨٠)۔يا عيسى إني متوفيك ورافعك إلي وجاعل الذين اتبعوك فوق الذين كفروا إلى يوم القيامة۔(تذكرة ص ل )۔کہ میں ہی تجھے وفات دوں گا اور تیرے درجات کو رفعتیں عطا کروں گا اور مخالفوں کی بد خواہشوں اور گندے الزامات سے تجھے پاک کروں گا۔اور فرمایا: لا تُبقي لك من المخزيات شيئًا»۔کہ تیرے پر جو بیہودہ اور جھوٹے الزام لگائے جائیں گے ان کو کلیہ ختم کر دیا جائے گا۔لیکن پھر بھی آپ کے دشمن اس باطل اور بے بنیاد خیال پر قائم ہیں کہ آپ کی وفات نعوذ باللہ ہیضہ کے نتیجہ میں ہوئی ، جو کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک قہری نشان کے طور پر تھی۔(نعوذ بالله من هذه الخرافات) (۱۷) ستائیس ۲۷ تاریخ مسیح موسوی : حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کی تاریخ کے متعلق آتا ہے:۔۔۔۔عرج فيها بروح عيسى ابن مريم ليلة سبع وعشرين من رمضان»۔طبقات ابن سعد جلد ۳ ص ۳۹)۔کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات رمضان کی ستائیسویں رات کو ہوئی۔مسیح محمدی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خدا تعالیٰ نے بتایا : وستائیس کو واقعہ (ہمارے متعلق الله خير ابھی۔" ( تذکرہ - صفحہ ۷۴۵ )