ابن مریم — Page 143
۱۴۵ مسیح محمدی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تکذیب اور مخالفت میں جب ایڑی چوٹی کا زور لگایا گیا اور آپ کے دعوی کی سچائی کو دھندلانے کی سعی کی گئی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی صداقت کے ثبوت کے طور پر ماہ رمضان میں سورج اور چاند کو دنیا کے ایک خطہ میں ۱۴ ند کو دنیا کے ایک خطہ میں ۱۸۹۴ء میں اور دوسرے خطہ میں ۱۸۹۵ء میں گرہن لگایا۔حضرت عیسی علیہ السلام سے اس مشابہت کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔" جب اس ( حضرت مسیح علیہ السلام۔ناقل ) کو صلیب پر چڑہایا گیا تو سورج کو گرہن لگا تھا۔سو اس واقعہ میں بھی خدا نے مجھے شریک کیا ہے۔کیونکہ جب میری تکذیب کی گئی تو اس کے بعد نہ صرف سورج بلکہ چاند کو بھی ایک ہی مہینہ جو رمضان کا مہینہ تھا گرہن لگا تھا۔اور نہ ایک دفعہ بلکہ حدیث کے مطابق دو دفعہ یہ واقعہ ہوا۔ان دونوں گرہنوں کی انجیلوں میں خبر دی گئی ہے اور قرآن شریف میں بھی یہ ہے اور حدیثوں میں بھی جیسا کہ دار قطنی میں۔جید ( تذکرہ الشہادتین۔روحانی خزائن جلد ۲۰۔صفحہ ۳۳) حمد ”چنانچہ انجیل میں مسیح کی آمد ثانی کے بارہ میں لکھا ہے۔ان دنوں کی مصیبت کے بعد سورج تاریک ہو جائے گا اور چاند اپنی روشنی نہ دے گا۔" (متی ۲۴ : ۲۹ )۔قرآن کریم نے چاند اور سورج کے اس گرہن کو اس طرح بیان فرمایا ہے وَخَسَفَ الْقَمَرُ وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُنَ سورة القيامة کہ چاند کو گرہن لگے گا اور پھر سورج اور چاند دونوں کو خسوف کی حالت میں جمع کر دیا جائے گا۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پیش گوئی فرمائی