ابن مریم — Page 140
۱۴۲ نظر ہے۔چنانچہ حضرت صاحبزادہ عبد اللطیف اور آپ کے شاگر د حضرت مولوی عبدالرحمان کو کار ثواب اور اسلام کی خدمت سمجھ کر شہید کر دیا گیا۔اس دن سے آج تک یہ سلسلہ قتل مسلسل چلا آرہا ہے۔حضرت خلیفہ المسیح ثانی رضی اللہ عنہ نے مخالفین کی اس روش کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ کہیں گے قتل کرنا اس کا جائز بلکہ واجب ہے جو اس کو قتل کر دے گا وہ محبوب خدا ہو گا پس ہر شہید ہونے والا احمدی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا ثبوت بن جاتا ہے۔اور مخالفین اپنے اس مذموم طرز عمل سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت عیسی علیہ السلام کی آپس میں مشابہت پر مہر تصدیق ثبت کر دیتے ہیں۔(۷۱) عبادت خانے سے اخراج سیح موسوی : حضرت عیسی علیہ السلام کی مخالفت میں سب یہودی متفق ہو گئے تھے اور ان کا یہ موقف تھا کہ مسیح خود کفر کہہ چکا ہے۔لہذا اس کے ماننے والے بھی کافر ہیں۔چنانچہ لکھا ہے کہ یہودی ایکا کر چکے تھے کہ اگر کوئی اس کے مسیح ہونے کا اقرار کرے تو عبادت خانے سے خارج کیا جائے۔(یوحنا ۲۲۰۹) گویا مسیح علیہ السلام تو ان کے نزدیک کافر تھے ہی ، ساتھ ان کے ماننے بھی کافر ہوئے اور عبادت خانے میں ان کا جانا ممنوع ہو گیا۔مسیح محمدی مثیل مسیح کے وقت میں تاریخ نے پھر اپنے آپ کو دہرایا اور یہ فیصلہ قرار پایا کہ