ابن مریم

by Other Authors

Page 5 of 270

ابن مریم — Page 5

کے پاس پہنچ جاتا ہے یعنی دنیا سے بالکل بے تعلق ہو کر صعود الی اللہ کے دائرے میں آ جاتا ہے تب اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے اس کو ہدایت خلق کے لئے بھیجتا ہے۔یہ بھیجنا ہی نزول کہلاتا ہے اور اس کی بعثت کو تعظیما و اکراما نزول کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے قرآنِ کریم کی طرف انصاف کی نگاہ اٹھائی جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ قابل تعظیم چیزیں ، خدا کی نعمتیں اور وہ اشیاء جو محض خدا تعالیٰ کے فضل سے انسان کو آسائش و آرام کے لئے ملتی ہیں ان کے لئے بھی نزول کا لفظ استعمال ہوتا ہے لیکن وہ آسمان سے نہیں اترتیں مثلاً لباس ، لوہا ، جانور ، غرض ہر چیز جو نعمت اور فضل کے دائرہ میں آتی ہے اس کے لئے نزول کا لفظ استعمال ہو سکتا ہے ہو نہ تو لباس سلا سلایا آسمان سے آتا ہے ، نہ جانوروں کو آسمان سے کسی نے اترتے دیکھا ، نہ لوہے کو گرتے۔مگر خدا تعالیٰ فرماتا ہے قَدْ أَنزَلْنَا ہم نے ہی اسے اتارا ہے۔اور وَمَانُنَزِلَهُ إِلَّا بِقَدَرِ مَعْلُومِ ایک خاص اندازے کے مطابق ہم انہیں اتارتے ہیں پس عظیم نعمتیں جو خدا تعالیٰ نے بنی نوع انسان کو عطا فرمائیں ، خدائی نوشتوں میں ان کے لئے لفظ " نزول " کا استعمال عام محاورہ مسیح موعود کے لئے لفظ نزول کے استعمال کی وجہ مذکورہ بالا حقیقت کے پیش نظر مسیح موعود کے لئے جو نزول کا لفظ احادیث میں قَدْ أَنزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا سُورة الأعرافي وَأَنزَلْنَا الْحَدِيدَ فِيهِ بَأْسُ شَدِيدٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ شورة الحسابية وَأَنزَلَ لَكُم مِّنَ الْأَنْعَمِ سُورة النصير وَإِن مِن شَيْءٍ إِلَّا عِندَنَا خَرَابِنُهُ وَمَا نُنَزِلَهُ إِلَّا بِقَدَرٍ مَعْلُومٍ سُورة الحجر