ابن مریم — Page 4
سلام ان احادیث میں بیان کردہ نزول کی پیش گوئی سے ایک مکتبہ فکر کو یہ غلطی لگی کہ اس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اصالتا یعنی جسمانی طور پر بعثت مراد ہے۔وہی جن کا نام قرآن کریم نے " الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ ( آل عمران: ۴۵ ) رکھا ہے۔الفاظ کے تشابہ نے ان کے نظریہ اور حقیقت نزول کے درمیان ایک دبیز پردہ حائل کر دیا اور لفظ "نزل " کی ظاہریت اس پیش گوئی کے سمجھنے کی راہ میں ایک بڑی روک بن گئی۔حالانکہ لفظ ”نَزَل " یا " نزول في الأرض " جسم خاکی کے ساتھ آسمان سے اترنے کو مستلزم نہیں دو عالم، سید الکونین ، صاحب لولاک ، سرتاج انبیاء ، حضرت خاتم النبيين صلى الله علیہ وسلم کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔قَدْ أَنزَلَ اللَّهُ إِلَيْكُمْ ذِكَرا رَسُولَا يَتْلُوا عَلَيْكُمْ ايَتِ اللَّهِ مُبَيِّنَت - شورة الطلاق کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے شرف کا سامان یعنی رسول نازل کیا ہے جو تم کو اللہ تعالیٰ کی ایسی آیات سناتا ہے جو ( نیکی اور بدی کو ) کھول کر پیش کرتی ہیں۔اس آیت میمونہ میں لفظ " نزول " بھی ہے اور اہل دنیا کو مخاطب کر کے الیکم بھی فرمایا گیا ہے۔مگر پھر بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا آسمان سے جسم خاکی کے ساتھ آنا مراد نہیں۔کوئی بھی یہ نہیں کہتا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جسم کے ہمراہ آسمان سے اترے تھے۔جو کیفیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نزول کی ہے وہی کیفیت حضرت مسیج کے نزول کی ہونی چاہئے۔اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نزول سے آپ کا جسم عنصری آسمان سے آنا مراد نہیں تو ابنِ مریم کے نزول سے ان کا آسمان سے جسم عصری اترنا کیوں مراد لیا جاتا ہے۔پس جو نگ و معیار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مقرر کیا جاتا ہے وہی مسیح کے لئے ہونا چاہئے۔در حقیقت ہر نبی اپنی ماموریت سے پیشتر دنیا سے منقطع ہو کر بلحاظ قرب اللہ تعالیٰ