ابنِ سلطانُ القلم — Page 74
ابن سلطان القلم ~ 74 ~ ہونے کے باوجود کہ یہ مرزا سلطان احمد صاحب نے ہی رقعہ لکھا ہے مجھے شبہ ہوا کہ یہ کسی اور نے نہ لکھا ہو کیونکہ وہ رقعہ اس قدر مخلصانہ انداز میں لکھا ہوا تھا اور اس قدر ادب اور احترام اس میں پایا جاتا تھا جس طرح پرانے مخلص احمدی خط لکھا کرتے ہیں۔اس میں شبہ نہیں کہ انھیں ایسی حالت میں بیعت کی توفیق ملی جب ان کے قومی مضمحل ہو چکے تھے اور دوسروں کو ہی چار پائی سے اٹھانا پڑتا تھا اور دوسروں کو ہی کھلانا اور پلانا پڑتا تھا، مگر ہدایت دماغ کے ساتھ تعلق رکھتی ہے، ظاہری جسم کے ساتھ تعلق نہیں رکھتی۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی لیے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی اس وقت تک توبہ قبول فرماتا ہے مَا لَمْ يُغَرْغِرُ جب تک نزع کی حالت نہیں آتی۔گویا جب تک اس کا دماغ معطل نہیں ہوتا اللہ تعالیٰ دماغ کے موت کے اثر سے مؤثر ہو جانے سے پہلے پہلے ہر شخص کی توبہ کو قبول کر سکتا ہے اور میں سمجھتا ہوں یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے عین وفات کے قریب انھیں بیعت کی توفیق عطا فرمائی۔بیعت کے بعد ان کے اندر اس قدر اخلاص پیدا ہو گیا تھا کہ مرزا سلطان محمد صاحب جب ایک دفعہ قادیان آئے تو بعض اور دوستوں اور میاں بشیر احمد صاحب کو بھی خیال آیا کہ انھیں تبلیغ کرنی چاہیے۔چونکہ مرزا سلطان احمد صاحب سے ان کے پرانے تعلقات تھے اس لیے انھیں تحریک کی گئی کہ وہ