ابنِ سلطانُ القلم — Page 68
ابن سلطان القلم ~ 68 ~ کرتے ہیں اور پھر خصوصیت سے اعتراض کیا جاتا تھا کہ آپ کا ایک لڑکا آپ کی بیعت میں شامل نہیں۔یہ اعتراض اس کثرت کے ساتھ کیا جاتا تھا کہ جن لوگوں کے دلوں میں سلسلہ کا درد تھا وہ اس کی تکلیف محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتے تھے۔میں دوسروں کا تو نہیں کہہ سکتا لیکن اپنی نسبت میں کہہ سکتا ہوں کہ میں نے متواتر اور اس کثرت سے اس امر میں اللہ تعالیٰ سے دُعائیں کیں کہ میں کہہ سکتا ہوں کہ میں نے ہزار ہا دفعہ اللہ تعالیٰ سے دُعا کی ہو گی اور میں یقین سے کہہ سکتا ہوں بغیر ذرہ بھر مبالغہ کے کہ بیسیوں دفعہ میری سجدہ گاہ آنسوؤں سے تر ہو گئی۔اس وجہ سے نہیں کہ جس شخص کے متعلق اعتراض کیا جاتا تھا وہ میرا بھائی تھا بلکہ اس وجہ سے کہ جس شخص کے متعلق اعتراض کیا جاتا تھا وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا بیٹا تھا اور اس وجہ سے کہ یہ اعتراض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر پڑتا تھا۔میں نے ہزاروں دفعہ اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور آخر اللہ تعالیٰ نے اس کا نتیجہ یہ دکھایا کہ مرزا سلطان احمد صاحب جو ہماری دوسری والدہ سے بڑے بھائی تھے اور جن کے متعلق حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد عام طور پر یہ خیال کیا جاتا تھا کہ ان کے لیے اب احمدیت میں داخل ہونا ناممکن ہے، احمدی ہو گئے۔ان کا احمدی ہونا ناممکن اس لیے کہا جاتا تھا کہ جس شخص نے اپنے باپ کے زمانہ میں بیعت نہ کی ہو اور پھر ایسے شخص کے زمانہ میں بھی بیعت نہ کی ہو جس کا ادب اور احترام اس کے دل میں موجود ہو، اس کے متعلق یہ امید