ابنِ سلطانُ القلم

by Other Authors

Page 45 of 298

ابنِ سلطانُ القلم — Page 45

ابن سلطان القلم ~ 45 ~ کہ مرزا ایسی مٹی سے نہ بنا تھا جو ان کی باتوں یا گھاتوں میں آجاتا۔آپ نے ان کی وہ تواضع کی کہ آئندہ ہمیشہ کے لیے ان حاکموں کے دشمنوں، پبلک کے دشمنوں اور نفس کے بندوں نے حکام کو رسوا کرنے والی اپنی ایسی حماقتوں سے توبہ کر لی۔واقعہ گوجرانوالہ۔۔۔دانشمندی اور شجاعت کی مثال: جب ملازمت سے اُن کے سبکدوش ہونے کا وقت آیا تو انھی دنوں پہلی جنگ عظیم کے اختتام کے بعد حکومت کے خلاف ترک موالات (non Cooperation) کے ہنگامے شروع ہو گئے۔پہلے لاہور اور پھر گوجرانوالہ ان ہنگاموں کی لپیٹ میں آگیا۔مرزا سلطان احمد صاحب گوجرانوالہ میں ڈپٹی کمشنر تھے۔وہاں سب سے زیادہ ہنگامے ہوئے۔عوام کے جوش و خروش کا یہ عالم ا تھا کہ لیڈروں کی ہدایات کے برخلاف انھوں نے آئینی حدود کو توڑ دیا۔بعض سرکاری عمارتوں کو نقصان پہنچایا اور ریلوے اسٹیشن تو پورے کا پورا جلا دیا۔ایک جم غفیر ہاتھوں میں بانس، لاٹھیاں اور اینٹ پتھر لیے ہوئے ضلع کچہری کی طرف بڑھا۔ایسے وقت میں مرزا سلطان احمد سے کہا گیا کہ وہ عوام کے اس مشتعل گروہ کو منتشر کرنے اور آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے گولی برسانے کا حکم دے دیں۔نیرنگ خیال جوبلی نمبر۔مئی، جون ۱۹۳۴ء صفحہ ۲۸۹