ابنِ سلطانُ القلم — Page 235
ابن سلطان القلم ~ 235 - ~ لطیف پیرایہ میں اور جس حسین طرز سے اور جس بالغ نظری کے ساتھ یہ تبصرہ لکھا گیا ہے وہ اپنی نظیر آپ ہے۔اسرارِ بے خودی، پر اس سے بہتر اور اس سے اعلیٰ محاکمہ یقیناً آج تک نہیں لکھا گیا۔کلام اقبال کی آج تک متعدد شرحیں لکھی گئی ہیں، مگر اس کی نظیر و مثیل نہ زمانہ ماضی میں ملتی ہے ، نہ عہد حاضر میں نظر آتی ہے۔عجیب اتفاق ہے کہ یہ شاندار تبصرہ آج تک زیور طبع سے آراستہ نہیں ہوا اور اس کافل سکیپ سائز کے اسی صفحات پر خود مصنف کے اپنے ہاتھ سے لکھا ہوا مسودہ ربوہ کی مرکزی لائبریری میں موجود ہے۔اقبال کے متعلق ہر چیز اور ہر شے کی فراہمی بزم اقبال کا خوشگوار فرض ہے، جسے وہ خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دے رہی ہے۔اسی سلسلے کی ایک کڑی یہ تبصرہ بھی ہے، جو آج پہلی مرتبہ باذوق اور اہل علم حضرات کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے۔امید ہے کہ قارئین کرام اسے ذوق و شوق کے ساتھ پڑھیں گے اور تبصرہ نگار کی لیاقت و قابلیت، حسن بیان اور زور تحریر کی داد دیں گے۔“ ۲۵- ریاض الاحلاق: ۱۵۰ صفحات پر مشتمل یہ رسالہ دراصل صاحبزادہ صاحب کے متفرق مضامین کا مجموعہ ہے، جس کو مکرم مولوی سید ممتاز علی صاحب نے مرتب کیا ہے اور یہ مجموعہ ۱۹۰۰ء میں رفاہِ عام سٹیم پریس لاہور میں طبع ہوا۔اس میں مختلف موضوعات پر ۵۲ مضامین شامل ہیں، جن کی الگ فہرست کتاب کے آخر میں آپ کے مضامین کی فہارس میں شامل ہے۔