ابنِ سلطانُ القلم — Page 213
ابن سلطان القلم ~ 213 - ~ اس کتاب کے تین حصے ہیں۔پہلے حصے میں سات تبصرے اور متفرق مضامین شامل ہیں۔پہلے تبصرے میں نبی کی بعثت کے اغراض، دوسرے میں نزولِ قرآن مجید کی اغراض بیان کی ہیں، جن پر تصنیفات مشاہیر اسلام گواہ ہیں جو متنوع علوم پر مشتمل ہیں۔تیسرے تبصرے میں طبیعات کا بیان ہے۔چوتھے میں قرآن کریم نے جو عقل، سماعت اور علم کی طرف توجہ دلائی ہے اس کا بیان ہے۔پانچویں میں یہ حقیقت بیان کی ہے کہ تاویلات قائم مقام قرآن کریم کی نہیں۔چٹھے میں قرآن اور مناظر قدرت کا ذکر ہے۔ساتویں تبصرے میں بتایا کہ قرآن کریم کی بعض آیات پر عمل اور بعض سے اعراض ہی دنیا میں ذلت اور آخرت میں عذاب کا موجب ہے۔پھر قرآن کریم کی غلط تفسیر اور اس کا صحیح پہلو، ملی غیرت کا فقدان، فطرت اور اقتضائے فطرت، علوم وفنون، غرض دعوتِ قرآن، قرآن مجید کی مجموعی شان نزول و غیرہ موضوعات کو زیر بحث لائے ہیں۔حصہ دوم میں قرآن کریم کے مختلف علوم پر آیات قرآنیہ کی روشنی میں بحث کی ہے، جن میں علم الاخلاق، علم الحیوانات، علم نباتات، جمادات، علم آب، علم ہوا، علم آتش، علم ہیئت، ریاضی، علم النفس والقوی یا سائیکالوجی، علم الانسان، علم طب، فن تشریح، علم زبان، علم بلاغت و فصاحت، منطق، علم الکلام، فن مناظرہ، تاریخ، جغرافیہ، سیاحت، علم المعیشت، فن زراعت، تجارت اور علم خواب شامل ہیں۔حصہ سوم میں دیگر علوم، جو مسلمانوں سے خاص ہیں، بیان کیے ہیں، جیسے : علم تفسیر القرآن، تعبير القرآن، رموز القرآن، علم الفقه، علم الميراث، علم الرجال، علم الحديث، علم الدعوات، علم الہیات، علم صوفیہ وغیرہ۔