ابنِ سلطانُ القلم

by Other Authors

Page 3 of 298

ابنِ سلطانُ القلم — Page 3

ابن سلطان القلم ~ 3 ~ تھے کہ میں حضور کی تعلیم کی بجا آوری کی تاب نہیں رکھتا اور میں نہیں چاہتا کہ میری وجہ سے اس پاک سلسلہ کی بدنامی ہو۔دوسری طرف جب ہم آپ کی زندگی کا مطالعہ کرتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ آپ ایک اعلیٰ اخلاق کے مالک، صاحب کردار، سچائی پر کار بند ، امین اور منکسر المزاج شخص تھے۔یہی نہیں بلکہ آپ صاحب رؤیا والہام بھی تھے اور حضرت مسیح موعود کے الہامات ورؤیا وغیرہ میں بھی اللہ تعالیٰ نے متعدد دفعہ آپ کو شامل فرمایا۔یہ سب افضال الہیہ آپ کے عند اللہ مقام کی واضح طور پر نشاندہی کرتے ہیں۔ہر چند آپ کی روح شروع سے احمدیت قبول کیے ہوئے تھی لیکن آپ کو بیعت کی توفیق حضرت خلیفہ المسیح الثانی " کے عہد سعادت مہد میں حاصل ہوئی۔بعض احمدی احباب آپ کو بیعت کی تحریک بھی کیا کرتے تھے، جن کو آپ یہی جواب دیتے تھے کہ میں حضرت اقدس کو خوب جانتا ہوں اور میں محض اپنی کمزوری کی وجہ سے بیعت سے محترز ہوں۔اس سے یقینی طور پر یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ آپ کو یہ اور اک تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کس قسم کی جماعت قائم کرنا چاہتے ہیں اور اپنے متبعین کو کس معیار پر دیکھنا چاہتے ہیں اور آپ اپنے آپ کو اُس انتہائی معیار پر نہیں پاتے تھے اور اسی کو آپ اپنی کمزوری گردانتے تھے، ورنہ آپ کی زندگی اعلیٰ اخلاق کی آئینہ دار نظر آتی ہے۔دوسرے حضرت مسیح موعود کے بعض الہامات میں بھی یہ اشارات پائے جاتے تھے کہ آپ ضرور بیعت کر لیں گے مگر حضرت مصلح موعودؓ کے عہد میں۔اس سے قبل بیعت کرنا آپ کے لیے مقدر نہ تھا۔اس طرح آپ کا ایک مدت تک بیعت نہ کرنا اور پھر آخری عمر میں بیعت کر لینا ہر دو امور حضرت مسیح موعود کی