ابنِ سلطانُ القلم — Page 2
ابن سلطان القلم ~ 2 ~ ترقی حاصل کی، جو ایک ہندوستانی کی معراج سمجھی جاتی تھی۔خان بہادر کا خطاب بھی پایا، تاہم اعلیٰ دنیاوی منصب حاصل ہونے کے باوجود آپ نے انتہائی سادہ مگر پر وقار زندگی بسر کی۔آپ ایک محنتی، فرض شناس اور ذمہ دار افسر تھے۔امانت و دیانت اس حد تک تھی کہ کبھی دفتر کا قلم بھی ذاتی استعمال میں نہ لائے۔علاوہ ازیں آپ عظیم علمی و ادبی قد و قامت کی حامل شخصیت تھے۔تصنیف و تالیف سے خاص شغف تھا۔آپ نصف صدی سے زیادہ عرصہ تک افق ادب پر چھائے رہے اور کئی ایک اخبارات و رسائل میں متواتر اور مسلسل بیش قیمت علمی مضامین لکھتے رہے۔آپ کی ساٹھ کے قریب تصنیفات اور چار سو سے زائد مضامین آپ کی روائی قلم اور کثرت نگاری کا منہ بولتا ثبوت ہیں، لیکن اس کثرتِ تالیف و تحریر کے باوصف آپ نے نہ صرف زبان کے اعلیٰ معیار کو قائم رکھا بلکہ مضمون کا حق ادا کرنے میں بھی کبھی کوئی سمجھوتا نہ کیا اور جس موضوع پر بھی قلم اُٹھایا اس کا حق ادا کر دیا۔آپ کے پیدا کر دہ لٹریچر سے بلاشبہ اُردو ادب میں بیش بہا اضافہ ہوا۔آپ کے والد بزرگوار رئیس قادیان حضرت مرزا غلام احمد علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے امام مہدی اور مسیح موعود نبی اللہ بنا کر مبعوث کیا، جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے آخرین کی جماعت قائم کی، جو جماعت احمد یہ کہلاتی ہے، لیکن آپ حضرت اقدس مسیح موعود کی زندگی میں آپ کے دست مبارک پر بیعت کر کے اس پاک جماعت کا حصہ نہ بن سکے باوجودیکہ آپ حضرت اقدس کو سچا اور راستباز سمجھتے تھے اور آپ کی غیر معمولی بزرگی اور خدارسیدہ ہونے کے قائل تھے۔اس کی وجہ آپ یہ بتاتے