ابنِ سلطانُ القلم

by Other Authors

Page 205 of 298

ابنِ سلطانُ القلم — Page 205

ابن سلطان القلم ~ 205۔~ گاه به سلطان باشی، گاه باشی به فقیر : انجمن حمایت اسلام کے جلسے اس زمانے میں بڑے اہم تصور کیے جاتے تھے، جن میں علامہ اقبال بھی بعض دفعہ اپنا کلام سامعین کی نذر کیا کرتے تھے۔نامور اور صاحب اثر شخصیات انجمن کے جلسوں کی صدارت کے لیے منتخب کی جاتی تھیں۔انجمن کا ستائیسواں جلسہ ۱۶ر اپریل، ۱۹۱۲ء کو اسلامیہ کالج لاہور کے ریو از ہوسٹل کے وسیع میدان میں منعقد کیا گیا، جس کے پہلے اجلاس کی صدارت صاحبزادہ مرزا سلطان احمد صاحب نے کی اور دوسرے اجلاس کی صدارت جناب فقیر افتخار الدین صاحب نے کی۔اس وقت وہاں تقریبا دس ہزار سامعین جمع تھے۔اقبال نے دو نشستوں میں اپنی نظم ”شمع و شاعر “ پیش کی، جس کے پہلے چھ بند پہلی صدارت میں اور باقی چھ بند دوسری صدارت میں پیش کیے۔دوسری نشست میں نظم سے پہلے اقبال نے یہ قطعہ بھی پیش کیا: ہم نشین بے ریایم از ره اخلاص گفت اے کلام تو فروغ دیده برنا و پیر در میان انجمن معشوق ہر جائی مباش گاه به سلطان باشی، گاه باشی به فقیر گفتمش اے ہم نشیں ! معذور می دارم ترا در طلسم امتیاز ظاہری ہستی اسیر من که شمع عشق در بزم جہاں افروختم سوختم خود را و سامان دوئی ہم سوختم ا ترجمہ اشعار : میرے مخلص دوست نے مجھے خلوص نیت سے کہا کہ تیر اکلام پیر وجواں کی آنکھ کو روشن کر دیتا ہے۔تو بزم میں معشوق ہر جائی نہ بن، کبھی تو سلطان کے ساتھ ہوتا ہے اور کبھی فقیر کے ساتھ۔میں نے اس سے کہا کہ اے میرے دوست! میں تجھ سے معذرت چاہتا ہوں، تو ظاہری امتیاز کے طلسم میں گرفتار ہے۔میں نے تو بزم جہان میں شمع عشق روشن کی ہے۔میں نے خود کو بھی جلا دیا ہے اور سامانِ دوئی کو بھی جلا دیا ہے۔