ابنِ سلطانُ القلم — Page 188
ابن سلطان القا ~ 188- خان بهادر مولوی سلطان احمد صاحب افسر مال ریاست بہاولپور جو اُردو انشا پردازی کے روح رواں ہیں اپنے اس قابلِ قدر مضمون میں نہایت مؤثر پیرایہ سے خواتین کو مسلم یونیورسٹی کے واسطے چندہ دینے کی ترغیب دیتے ہیں اور اپنے اس موسمی مضمون میں نہایت اثر انداز لہجے میں ان سے التجا کرتے ہیں۔خدا کرے کہ ہمارے خان بہادر صاحب مد ظلہ کی پُر درد آواز بے کار نہ جائے اور مسلم یونیورسٹی کے کشکول میں بیگماتی ہاتھ بھی کچھ ڈالتے نظر آئیں۔(قیصر۔ایڈیٹر ) زود نگاری کی ایک مثال: مدیر رسالہ ”انسان“ اپریل ۱۹۱۲ء کی اشاعت میں لکھتے ہیں: ”چونکہ مختلف عقائد اور مذاہب کے رو سے پہلا انسان ایک ہی تسلیم نہیں کیا جاتا، اس لیے مختلف مذاہب کے مستند اہل قلم سے اپنے اپنے نکتہ خیال کے مطابق مذکور الصدر مضمون پر لکھنے کی درخواست کی گئی تھی۔چنانچہ سب سے پہلے مرزا سلطان احمد صاحب کا مضمون اسلامی نکتہ خیال سے ملا جو ہدیہ ناظرین ہے۔(ایڈیٹر ) یہ آپ کی زود نگاری کی ایک مثال ہے، جس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ آپ کس قدر سرعت سے مضمون لکھ لیتے تھے ، تاہم مضمون کو دیکھ کر ایسے لگتا ہے جیسے کئی ماہ کی محنت اور عرق ریزی کے بعد لکھا گیا ہو۔ا رسالہ ”الحجاب“، اپریل ۱۹۱۱ء صفحہ ۳ رسالہ ”انسان“، اپریل ۱۹۱۲ء صفحہ ۳