ابنِ سلطانُ القلم — Page 181
ابن سلطان القلم ~ 181 - فرنگستان بالخصوص انگلستان بہارِ تعلیم کی عام لطف فرمائی سے نہال ہو رہا ہے۔ہر بچہ تعلیم عامہ کا دودھ پیتا ہے۔تعلیم عامہ کی گود میں پرورش پاتا ہے ، تعلیم عامہ کی دایہ کے زیر سایہ تربیت یاب ہوتا ہے۔اخبار بینی کے عالم کا یہ شوق ہے کہ معمولی سے معمولی اخبار کی اشاعت بھی لاکھوں تک پہنچ جاتی ہے۔ادنیٰ سے ادنی مزدور جس طرح اکل و شرب کو لازم سمجھتا ہے اسی طرح مطالعہ اخبار کو بھی ضروری خیال کرتا ہے۔بچے جس طرح ناشتے کے بغیر گل نہیں پاتے اسی طرح اخبار کے بغیر بھی آرام نہیں لیتے۔کلب گھروں پر جاؤ، ہوٹلوں میں جا نکلو، باغوں کی سیر کرو، جہاں دیکھو گے اخبارات ورسائل میز کی زیب و زینت بڑھاتے نظر آئیں گے۔(کوشا وہ سر زمین جہاں علم کے چشمے پھوٹتے ہیں، تعلیم کی نہریں چلتی ہیں اور تعلم کے دریا بہتے ہیں) اور اسی قسم کے بہارِ تعلیم کی کرشمہ آرائیوں کے اور مناظر ہیں جن کی تصویر مرزا صاحب موصوف نے موئے قلم حقیقت رقم سے کچھ اس طرح کھینچی ہے کہ آنکھوں کے سامنے ہو بہو وہی سماں بندھ جاتا ہے۔آپ کی رائے ہے اور درست رائے ہے کہ حزب الوطنی (کا نگریس) اور مجالس سیاسی (لیگیں) قائم کرنے سے پہلے ضروری کیا از حد ضروری ہے کہ ملک کے ہر فرد کے دماغ کی کاروباری تعلیم کے سرچشمے سے آپ پاشی کی جائے تاکہ وہ صنعت و حرفت کے بحر نا پیدا کنار میں غوطہ زن ہو کر وہ وہ لآلی شہوار اور جواہر آبدار نکالے جو ملک و قوم کے تاج شہرت کی زینت بنیں۔پھر آپ فرماتے ہیں اور بجا ارشاد فرماتے ہیں کہ ہندوستان میں جرائد کی عدم اشاعت اور صحائف کی کس مپرسی کا راز فقدانِ تعلیم کے صندو قچے میں مقفل ہے اور بس۔