ابنِ سلطانُ القلم — Page 178
ابن سلطان القلم ~ 178 ~ في الحقيقت قدرت کے آثار اور خود انسان ایسی چیزیں ہیں کہ جو انسان کے لیے غیر محدود علمیت بہم پہنچا سکتے ہیں اور انسان کے سب سے بڑے رہنمایانِ تعلیم بن سکتے ہیں، لیکن انسان کا ان سے کام لینے کے لیے تیار ہو ناشر ط ہے اور اگر اس کلمہ کو مان لیا جائے کہ انسان اسی حالت میں علمی معراج کو پہنچ سکتا ہے، جبکہ وہ قدرت اور آثار قدرت کی شاگردی کرے تو صاف طور پر یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ ہندوستان ہر قسم کی علمی ترقیوں میں یورپ و امریکہ کی اسی حالت میں برابری کر سکتا ہے، جبکہ اس کے باشندے ان ممالک کے عالموں کی طرح قدرت اور آثار قدرت بلکہ خود اپنی نسبت واقفیت حاصل کرنے کے درپے ہو جائیں۔آخر میں جناب مرزا صاحب کا ایسا مفید اور عالمانہ مضمون عنایت کرنے کے لیے جس سے قوم کی نئی پود (طالب علم) جو کہ کسی روز کو ملک کی لیڈر بننے والی ہے حد درجہ کا فائدہ اُٹھائے گی، دلی شکریہ ادا کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ جناب والا آئندہ 166 بھی اس طرح مضامین بھیج کر مشکور احسان فرماتے رہا کریں گے۔ایڈیٹر “ نہایت اعلیٰ درجے کے عالمانہ خیالات: رسالہ ایشیا امرتسر نے آپ کے مضمون ”نسبتی معیار “ پر لکھا: یہ مضمون ہمارے مکرم عالی جناب مرزا سلطان احمد خان صاحب اکسٹرا دو اسسٹنٹ کمشنر کے خدا داد زور قلم کا نتیجہ ہے۔آپ نے ” نسبتی معیار“ کے عنوان سے ا رسالہ ”رہنمائے تعلیم “ لاہور، جنوری ۱۹۱۳ء صفحہ ۴۵