ابنِ سلطانُ القلم

by Other Authors

Page 168 of 298

ابنِ سلطانُ القلم — Page 168

ابن سلطان القلم ~ 168 ~ ایک دفعہ مجھے ہندی دوہوں کی ایک کتاب ملی۔میرے دل پر ان دوہوں نے اتنا اثر کیا کہ میں کبھی کبھی اکیلا ہو کر انھیں بار بار پڑھتا تھا۔اس وقت میرے دل سے ایک جوش اٹھتا تھا اور میں اپنے دل میں ایک خاص قسم کا سرور محسوس کرتا تھا۔بعض دفعہ ایک شعر نے وہ حالت کی ہے کہ ہزاروں شعر سے بھی وہ سماں نہیں پیدا ہوا۔ایک دفعہ ایک پنجابی فقیر صبح ہی صبح پنجابی زبان میں یہ گا رہا تھا کہ ”جو پتا ایک دفعہ اپنی شاخ سے گر جاتا ہے وہ پھر کبھی اس شاخ پر نہیں لگ سکتا۔“ میں نے دیکھا کہ ایک اچھا پڑھا لکھا آدمی یہ سن کر زار زار رو تا تھا اور اس کی حالت واقعی کسی اور رنگ میں تھی۔میرے مطالعہ کی ترقی اور وسعت کا باعث اس قسم کی کتابیں اور مضامین ہوئے ہیں۔اب مجھے یہاں تک خبط ہے کہ میں ایسے ہی مضامین یا اشعار، فقرات، جملوں کی تلاش میں صدہا صفحے پڑھ ڈالتا ہوں۔اگر ایک ہزار صفحہ کی کتاب سے ایک فقرہ بھی میرے مذاق کے مطابق آیا تو میں سمجھ لیتا ہوں کہ کتاب کی قیمت وصول ہو گئی اور میرا وقت رائیگاں نہیں گیا۔مجھے کسی کتاب نے اتنا فائدہ نہیں پہنچایا اور نہ محظوظ کیا جس قدر اس قسم کے فقرات اور مضامین نے فائدہ پہنچایا اور محظوظ کیا۔میری رائے میں اگر کسی کتاب کا ایک فقرہ بھی دل پر اثر کرتا ہے اور خیالات میں تموج اور جوش پیدا کرنے کی قابلیت رکھتا ہے تو وہ کتاب کی جان، کتاب کی کفالت ہے اور وہ کتاب لائق انتخاب ہے۔