ابنِ سلطانُ القلم — Page 157
ابن سلطان القلم ~ 157 - ~ دے گا۔اس پر دادا صاحب کو جوش آگیا اور کہا “تمھیں کیا معلوم ہے کہ وہ مجھے کہاں ڈالے گا۔میں اللہ تعالیٰ پر ایسا بدظن نہیں ہوں میری امید وسیع ہے۔خدا فرماتا ہے لا تقنطوا من رحمت اللہ تم مایوس ہو گے میں مایوس نہیں ہوں۔اتنی بے اعتقادی میں تو نہیں کرتا” پھر کہا “اس وقت میری عمر ۷۵ سال کی ہے۔آج تک خدا نے میری پیٹھ نہیں لگنے دی تو کیا اب وہ مجھے دوزخ میں ڈال دے گا” خاکسار عرض کرتا ہے کہ پیٹھ لگنا پنجابی کا محاورہ ہے جس کے معنے دشمن کے مقابلہ میں ذلیل و رسوا ہونے کے ہیں ورنہ ویسے مصائب تو دادا صاحب پر بہت آئے ہیں۔(۳۵) بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش۔صاحب ایم اے کہ دادا صاحب نے طب کا علم حافظ روح اللہ صاحب باغبانپور لاہور سے سیکھا تھا۔اس کے بعد دہلی جا کر تکمیل کی تھی۔(۳۶) بیان کیا مجھ سے رحیم بخش صاحب ایم اے نے کہ بیان کیا ان سے مرزا سلطان احمد صاحب نے کہ دادا صاحب کی ایک لائبریری تھی جو بڑے بڑے پٹاروں میں رہتی تھی اور اُس میں بعض کتابیں ہمارے خاندان کی تاریخ کے متعلق بھی تھیں۔میری عادت تھی کہ میں دادا صاحب اور والد صاحب