ابنِ سلطانُ القلم — Page 101
اس کے جواب میں حضرت صاحب نے فرمایا کہ: ابن سلطان القلم ~ 101 - ”ہم وہ قصور معاف کرتے ہیں۔آئندہ اب تم پر ہیز گار اور سچے مسلمانوں کی طرح زندگی بسر کرو اور بُری صحبتوں سے پرہیز کرو۔بُری صحبتوں کا انجام آخر بُرا ہی ہوا کرتا ہے۔“ ~ حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب اس واقعہ کے ضمن میں فرماتے ہیں: ”جب صاحبزادہ مرزا عزیز احمد صاحب علی گڑھ کالج میں پڑھا کرتے تھے تو آپ سے یہ غلطی سرزد ہو گئی کہ آپ سٹوڈنٹس کی سٹرائیک میں شامل ہو گئے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انھیں فورا جماعت سے خارج کر دیا۔اس پر مرزا عزیز احمد صاحب کو سخت صدمہ پہنچا۔سوائے معافی نامہ پیش کرنے کے کوئی چارہ نہ تھا لیکن حضرت اقدس کا رعب و دبدبہ تھا کہ مرزا عزیز احمد صاحب کو اس کا مضمون نہ سوجھتا تھا۔ایسے آڑے وقت میں ان کے والد مرزا سلطان احمد صاحب نے، جو کہ خود احمدیت میں داخل نہ ہوئے تھے لیکن حضرت مسیح موعود کے مزاج شناس تھے، معافی نامہ کا مضمون لکھ کر ان کو علیگڑھ بھیج دیا۔چنانچہ اس معافی نامہ کے پہنچنے پر حضرت اقدس نے ان کو معاف کر دیا اور احمدیت کے قلعہ عافیت میں انھیں داخل کر لیا۔یہ واقعہ حضرت مرزا سلطان احمد صاحب کا احمدیت کے ساتھ دلی وابستگی کا ثبوت بن گیا۔“ ۱ بدر جلد ۶ نمبر ۴۲ مورخه ۷ ار اکتوبر ۱۹۰۷ء بحوالہ ملفوظات جلد پنجم صفحہ ۱۷۳ الفضل ۱۱؍ دسمبر ۱۹۴۰ء بحواله محمود ایاز صفحه ۱۸۰