ابن رشد

by Other Authors

Page 70 of 161

ابن رشد — Page 70

body, hotter than a drug that itself possesses greater heat۔" اس موضوع سے دلچسپی رکھنے والے قارئین درج ذیل مضمون کا مطالعہ فرمائیں: Ibn Rushd's critique of Al-Kindi - Pharmacological Computus - Enterprise of Science in Islam by A۔1۔Sabra (22) اور علم بصریات جیسا کہ اس باب کے شروع میں ذکر کیا گیا کہ دنیا کا پہلا طبیب تھا جس نے کہا کہ آنکھ کا پردہ بصارت آنکھ میں فوٹوری سیپٹر کا کام کرتا ہے۔حسن اتفاق سے مجھے کوئیز یونیورسٹی کی میڈکل لائبریری میں جرنل آف دی ہسٹری آف میڈیسن نمبر 24، 1969ء کے جنوری کے شمارے میں وہ مضمون مل گیا جس کا عنوان ہے " کا نقطہ نظر پردہ بصارت کے متعلق (Averroes View of the Retina )۔مصنف نے یہ مضمون کتاب الکلیات کے چار لاطینی تراجم سے تیار کیا جو دنیس (اٹلی) 1574 156 155 1514ء میں شائع ہوئے تھے۔مصنف کہتا ہے کہ پہلا سائنس داں تھا جس نے کہا کہ پردہ بصارت آنکھ میں فونوری سپیٹر کا کام کرتا ہے جبکہ یہ دریافت یورپ میں پلاٹر (Platter) نے پانچ سو سال بعد کی کیپلر (Kepler) نے بھی اس سے مکمل اتفاق کیا۔حیرانی کی بات یہ ہے کہ کتاب الکلیات کا لاطینی ترجمہ 1255ء میں کیا گیا مگر کسی نے اس معرکتہ الآراء دریافت کی طرف توجہ نہ کی۔بیسویں صدی میں اس دریافت کا ذکر ایک مصنف فوکالا (Fukala) نے فرسٹ ہینڈ آبزرویشن کے بعد ایک مضمون میں کیا۔نے کتاب الکلیات میں جالینوس کے اس نقطہ نظر کی تردید کی کہ آنکھ کا عد سہ روشنی ملنے پر رد عمل کرتا ہے۔اس نے کہا کہ عدس عکس (image ) بناتا ہے جو پردہ بصارت کو بھیج دیا جاتا ہے وہ در حقیقت روشنی ملنے پر رد عمل کرتا ہے (sensitive to light) کتاب الکلیات کے ابواب 2:15 اور 3:38 میں نے آنکھ پر مفصل روشنی ڈالی۔باب 2:15 کا اقتباس درج ذیل ہے: "It seems that the proper instrument of the visual sense should be either the round humor, called glacial, or the zonule (lens) located anterior to this humor۔۔۔The tunic called the chorioid was created for the nutrition of the retina through its veins; and that it may nourish itself becaue of the natural heat passing through its own arteries۔Nutrition of the retina is 70