ابن رشد

by Other Authors

Page 59 of 161

ابن رشد — Page 59

ان فرقوں نے جو عقائد تاویل کے ذریعہ ایجاد کئے ہیں وہ صریح غلط ہیں۔ان فرقوں میں سے معتزلہ کے عقائد پر اس نے بہت کم بحث کی ہے کیونکہ اندلس میں ان کا صحیح مسلک جاننے کے لئے ان کی کوئی کتاب یا رسالہ دستیاب نہیں تھا۔باطنیہ کے متعلق بھی کچھ اظہار خیال نہیں کیا۔حشویہ کے متعلق صرف اتنا لکھا کہ شرعی عقائد میں ان کے نزدیک عقل کو کوئی دخل حاصل نہیں ہے۔پھر قرآن مجید کی متعدد آیات سے ثابت کیا کہ خدا نے اپنے وجود پر بہت سے عقلی دلائل پیش کئے ہیں۔صوفیہ کے متعلق لکھا کہ ان کا مسلک قیاس سے مرکب نہیں ہے بلکہ ان کے نزدیک علم و معرفت کا طریقہ یہ ہے کہ قلب کو عوارض شہوانیہ سے پاک کرکے مطلوب پر غور و فکر کیا جائے۔اس نقطہ نظر کے ثبوت میں وہ قرآن حکیم کی آیات بطور دلیل پیش کرتے ہیں۔اگر اس طریقہ کو صحیح تسلیم کر لیا جائے تو پھر بھی یہ تمام انسانوں کے لئے نہیں ہو سکتا۔اس سے نظر نی طریقہ بالکل غلط ثابت ہو جائیگا، حالانکہ قرآن حکیم بار بار نظر و انتہار کی دعوت دیتا ہے۔غرضیکہ صوفی ازم پر یقین نہیں رکھتا تھا۔جہاں تک اشاعرہ کا تعلق ہے ( امام الغزالی" کا تعلق اس گروہ سے تھا ) نے ان کو دل کھول کر ہدف تنقید بنایا ہے۔کے نزدیک عقائد کے جو دلائل قرآن میں موجود ہیں وہ اہل بربان اور عوام دونوں کے لئے تسلی بخش ہیں کیونکہ ایک طرف تو وہ یقینی ہیں اور دوسر کی طرف سادہ، غیر مرکب ہیں۔لیکن اشاعرہ کے دلائل ان دونوں اوصاف سے عاری ہیں، نہ تو وہ نظری طور پر یعنی ہیں اور نہ شرعی دلائل کی طرح وہ سادہ اور قطعی ہیں۔اس طور پر اس نے سب سے پہلے ان دلائل پر سیر حاصل بحث کی ہے جو اشاعرہ اور قرآن حکیم نے خدا تعالی کے وجود پر قائم کئے ہیں۔قرآن حکیم میں اللہ تعالی نے اپنے وجود پر دو قسم کے دلائل پیش کئے ہیں ، ان کو نے دلیل عنایہ اور دلیل اختراع میں تقسیم کیا ہے: (1) دلیل عنایہ کی بنیاد دو باتوں پر ہے ایک تو یہ کہ دنیا کی تمام چیزیں انسانی ضروریات اور انسانی فوائد کی خاطر بنائی گئی ہیں مثلاً چاند، سورج، دن، رات ، سردی، گرمی، نباتات، جمادات ، بیل بوٹوں پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ انسان کے لئے کس قدر مفید اور اس کی ضروریات کے لئے کس قدر موزوں ہیں۔اس لئے جو شخص خدا کے وجود کا پتہ لگانا چاہتا ہے اس کے لئے موجودات کے فوائد پر تحقیق لازمی ہے۔دوسرے یہ کہ اس کائنات کے تمام اجزاء، انسانی وجود اور موجودات کے نہایت موافق ہیں۔مثلاً اگر ایک شخص زمین پر ایک پتھر کو دیکھے جو اس طرح تراشا گیا ہے کہ اس پر آرام سے بیچا جا سکتا ہے۔لیکن اگر یہ پتھر اس طرح پڑا ہوا ہے کہ یہ بیٹھنے کے لائق نہیں ہے تو انسان یقین کر لیتا ہے کہ پتھر اتفاق سے زمین پر آن گرا ہے۔کسی نے اس کو خاص مقصد کی خاطر نہیں رکھا ہے۔اس طرح انسان جب کائنات کے اجزاء کو دیکھتا ہے کہ کس طرح وہ انسان کے فوائد کے عین مطابق ہیں تو یقین ہو جاتا