ابن رشد — Page 13
ابن طفیل خلیفہ ابو یعقوب کے دربار میں علمی مشیر ( سائینٹفک ایڈوائزر ) تھا۔ابن طفیل نے شاہی دربار میں فلسفہ کے ائمہ فن جمع کر رکھے تھے۔اب تک کو فلسفیانہ حیثیت سے زیادہ شہرت حاصل نہ تھی لیکن ابو یعقوب یوسف کے دربار میں پہنچ کر اس کی علمی حیثیت لوگوں پر بطور فلسفی عیاں ہوئی۔نے یہ واقعہ اپنے ایک شاگرد سے کچھ اس طرح بیان کیا جسے عبد الواحد مراقشی نے اپنی تصنیف' المعجب في تلخيص اخبار المغرب میں رقم کیا ہے: جب میں دربار میں داخل ہوا تو ابن طفیل وہاں حاضر تھا۔اس نے امیر المومنین یوسف کے حضور مجھ کو پیش کیا اور میرے خاندانی اعزاز ، میری ذاتی لیاقت اور میرے ذاتی اوصاف کو اس رنگ میں بیان کیا جس کا میں مستحق نہ تھا۔لیکن اس سے میرے ساتھ اس کی مخلصانہ محبت وعقیدت کا اظہار ہوتا تھا۔پھر یوسف میری طرف مخاطب ہوا، پہلے میرا نام و نسب پوچھا پھر فوراً یہ سوال کیا کہ حکما افلاک کے متعلق کیا رائے رکھتے ہیں؟ یعنی ان کے نزدیک عالم کا ئنات قدیم ہے یا حادث؟ یہ سوال سن کر مجھ پر خوف کی حالت طاری ہوگئی اور میں نے بہانے تلاش کرنے شروع کر دئے۔میں نے عرض کیا کہ میں فلسفے سے واقف نہیں ہوں۔خلیفہ یوسف میری بدحواسی کو تاڑ گیا اور ابن طفیل کو مخاطب کر کے اس مسئلے پر گفتگو شروع کر دی اور ارسطو، افلاطون اور دیگر حکماے متقدمین نے جو کچھ اس مسئلے پر کہا ہے اس کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا۔پھر متکلمین اسلام نے حکما پر جو اعتراضات کئے ہیں وہ ایک ایک کر کے بیان کئے۔یہ دیکھ کر مجھ پر خوف کی جو حالت طاری تھی وہ ختم ہو گئی۔لیکن مجھے تعجب ہوا کہ خلیفہ یعقوب یوسف علوم عقلیہ میں اتنی دستگاہ رکھتا تھا جو طبقہ علما میں بھی شاذ و نادر کسی کو حاصل ہوتی ہے حالانکہ عالم اس قسم کی بحثوں میں اکثر مصروف رہتے ہیں۔اب یوسف نے میری طرف توجہ مبذول کی تو میں نے مکمل آزادی کے ساتھ اس موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔جب میں دربار سے رخصت ہونے لگا تو انہوں نے مجھ کو نقد مال، خلعت ، ایک گھوڑا اور بیش قیمت گھڑی بطور انعام کے عطا کی۔" کا یہ کہنا کہ ابن طفیل نے میرے جو ذاتی اوصاف بیان کئے ان کا میں مستحق نہ تھا، در اصل کسر نفسی پر مبنی تھا۔ابن طفیل اس بات سے خوب واقف تھا کہ 1157ء سے 1163 ء تک ارسطو کی تقریباً نہیں کتابوں کے جوامع لکھ چکا تھا۔جیسے طبعیات، ما بعد الطبعیات اور منطق کا مجموعہ ( آرگانان )۔پھر طلب پر اس کی محققانہ تصنيف الكليات في الطب 1162ء میں منظر عام پر آچکی تھی۔اس لئے ایک مسلمہ طبیب فلسفی اور شارح ارسطو کی حیثیت سے اس کی شخصیت بہت ممتاز تھی۔بعض مؤرخین کا خیال ہے کہ شاید خلیفہ ابو یعقوب یوسف سے ارسطو کے فلسفہ کی شرح و تلخیص اس لئے کرانا چاہتا تھا تا کہ مغرب میں اس کو وہی فضیلت حاصل ہو جائے جو خلیفہ مامون الرشید کو مشرق میں حاصل تھی۔13 1 I