ابن رشد

by Other Authors

Page 111 of 161

ابن رشد — Page 111

دقیق مسائل و امور میں مہارت رکھتے ہوں ، سادہ لوح عوام کو صرف سادہ خیالات جیسے کہانیاں، واقعات اور پرانے ( سبق آموز ) قصے سنا کر ان کے دل بہلائے جائیں۔اس نے کہا کہ خدا نے انسان کو سوچنے کی صلاحیت ودیعت کی ہے اور قرآن پاک میں خدا تعالیٰ نے انسان کو بار بار تاکید کی ہے کہ وہ اس سوچنے کی صلاحیت (لعلکم تعقلون ، لعلكم تتفكرون ، لعلكم تنظرون ) کو بروئے کار لا کر اس کی آیات (یعنی مظاہر فطرت ) پر خوردند بر کرے کیونکہ اس میں مفکروں اور دانش وروں کے لئے نشانات ہیں۔مذہب اسلام کی فضیلت پر اس کا پختہ یقین تھا۔اس نے کہا ہے کہ انسان کو اپنے زمانہ کی سب سے بہترین مت کا انتخاب کرنا چاہئے اگر چہ اس کی نظر میں تمام متیں اچھی ہوں۔جانا چاہئے کہ افضل شریعت کم تر شریعت پر غالب آجاتی ہے یہی چیز اسکندریہ (مصر) میں ہوئی جب اسلام وہاں پہنچا تو وہاں کے علما اور دانشوروں نے اسلامی شریعت کو اپنا لیا۔یہی حالت روم کے علما کی ہوئی انہوں نے حضرت عیسی کی شریعت کو تسلیم کر لیا۔بنی اسرائیل کی قوم میں علما اور فقہا پیدا ہوتے آئے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہر نبی عالم فلسفی ہوتا ہے لیکن ضروری نہیں کہ ہر عالم ( فلسفی ) نبی ہو۔علم بلا شبہ انبیاء کے وارث ہوتے ہیں ( علما ورثۃ الانبیاء ( الفارابی (950ء) کے نزدیک فقط فلسفی ہیں انسان کامل ہوتا ہے۔(46) كتاب تهافت التهافة اور پر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ انسانی روح کی بقائے دوامی کا انکار کرتا تھا کیونکہ بقول اس کے انفرادی روح موت کے بعد آفاقی روح Universal Soul) میں ضم ہو جاتی ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ جو کچھ نے کہا اس کا اطلاق صرف عقل ( intellect) پر ہوتا ہے۔کے نظام فکر میں روح کا عقل سے امتیاز ضروری ہے اور نہ صرف بلکہ دوسرے مسلمان فلاسفہ کے مطالعے میں بھی یہ امتیاز ضروری ہے۔عقل انسان کی وہ ذہنی صلاحیت ہے جس کے ذریعہ وہ بغیر حواس خمسہ کے آفاقی صداقتوں سے آگاہ ہوتا ہے جیسے ریاضی کے اصول، سوچنے کے اساسی قوانین وغیرہ (47) اور افلاطون کی جس کتاب نے یورپ پر سب سے زیادہ اثر چھوڑ او د افلاطون کی کتاب ری پبلک کی جوامع یا شرح متوسط (1177ء) ہے۔یہ کتاب اصل عربی میں تو مفقود ہے البتہ اس کے عبرانی ترجمے سے انگریزی میں اس کا ترجمہ روزن تھال (E۔J۔Rosenthal) نے کیا ہے جو کیمبرج یونیورسٹی سے 1956 ء میں شائع ہوا ہے۔روزن تھال نے اپنا انگریزی ترجمہ آنھے عبرانی مخطوطات کے مطالعہ سے تیار کیا جو یورپ کی مشہور جامعات ( میونخ فلورنس ، وی آنا ، آکسفورڈ ، ملان، کیمبرج) میں موجود ہیں۔نے شرح متوسط حسین ابن الحق کے عربی ترجمہ 111