ابن رشد

by Other Authors

Page 82 of 161

ابن رشد — Page 82

these then modified the parts next to the iron۔in which a motive virtue was produced, causing it to approach the lodestone۔" (3) نے علم جنین (Embryology) پر بھی تحقیق کی تھی۔اس موضوع پر یورپ میں سب سے پہلی کتاب جائز آف روم 10-13-1247 Giles of Rome) نے لکھی تھی اور اس سوال کہ انسانی جسم میں روح کب پیدا ہوتی ہے، پر مدلل طریق سے روشنی ڈالی تھی۔کا نظریہ تھا کہ روح جسم کے ساتھ ہی پیدا ہوتی ہے لیکن نمو پانے والا بچہ ( جنین ) جب حرکت کرنا شروع کرتا ہے تو یہ اپنی موجودگی کا اظہار کرتی ہے۔یہ آئیڈیا عیسائیت نے انیسویں صدی میں قابل قبول تسلیم کیا تھا۔کا نظریہ تھا کہ انسانی مادہ تولید میں اتنی خلقی استعداد موجود ہے کہ اس سے ہونے والے بچے کے خط و خال، اس کی پرورش اور اس کے اعضاء کی نشو و نما کر سکے۔(A potentiality exists in the semen that determines the shape of the offspring, its nourishment, and development of its organs) (4) کے سائنسی نظریات نے اطالوی سائنس دانوں جیرارڈ و برونو 1600-1547 Bruno) اور گیلی لیو 164-1564 Galileo) کو بہت متاثر کیا تھا کیونکہ دونوں نے ایسے سائنس دانوں کے ہمراہ تعلیم حاصل کی تھی جو یو نیورسٹی آف پیڈ وا (اٹلی) میں کے نظریات کے پر جوش پیروکار ( Averroists ) تھے۔این رشد کے پیروکاروں کے علمی اثر کی وجہ سے سترھویں صدی میں ارسطو کے نظریات میں تنزل آگیا۔عجیب اتفاق ہے کہ ارسطو کا سب سے بڑا پر چار کرنے والا تھا مگر اس کے پیرو کاروں نے ارسطو کا علمی اثر یورپ میں زائل کیا۔کے نظریات کا اثر یورپ میں چاہے منفی تھا یا ثبت یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ یورپ میں نئی روشنی کی تحریک (Enlightenment ) بر پا کرنے میں اس کا بہت بڑا ہاتھ تھا (33)۔گیلی لیونے کے سائنسی نظریات سے کس حد تک استفادہ کیا اس کا اعتراف امریکی مصنف عمولس ریشر (Nicholas Rescher) نے ان الفاظ میں کیا ہے: "The Averroist tradition of Padua kept alive the Arabic interest in and spirit of inquiry respecting natural science, until the time that it provided intellectual grist to the mill of Galileo and his teachers۔" (34) (یعنی " پیڈو کی رشدی تحریک کی روایت نے نیچرل سائنس میں عرب دلچسپی اور تحقیقات کی روح کو زندہ رکھا حتی 82