مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 707
6۔4 سب مسافراد پر نیچے اپنے ہر تھوں پر دراز اور ہم ہیں کہ ڈبہ کے دروازے میں اس کے فضل کے انتظار میں کھڑے ہیں۔اتنے میں ایک شخص پانچ منٹ ٹین کی روانگی سے پہلے آیا اور جبریہ ایک مسافر کو اوپر کے یہ تھے سے اتار کر لے گیا کہ کل چلے جانا آج فلاں کام بڑا ضروری رہ گیا۔ہے۔اب وہ ہر تھے اوپر کا تھا اور مجھے اوپر تکلیف ہوتی ہے اس لئے میں نیچے کا یہ متھ چاہتا تھا۔اتنے میں ایک انگریز نیچے کے برتھ سے اٹھا اور مجھے مخاطب ہو کر کہنے لگا مجھے امید ہے آپ کو اعتراض نہ ہوگا اگر میں اس اُوپر والے خالی برتھ پر سو جاؤں مجھے یہ نیچے کی جگہ پسند نہیں (شاید اس لئے کہ اسکے دونوں طرف نیٹو ، یعنی کالا لوگ سورہا تھا آپ میری جگہ اس درمیانی یر تھے پر آرام کریں میں بہت مشکور ہوں گا میں نے کہا اچھا اور میں اپنا لیستر بچھا کر لیٹ گیا۔گر نیند کہاں۔اس ذرا سے واقعہ نے میرا دل اس میرے اپنے امیرے رفیق میرے رحیم و کریم اور میر نے پرسنل خدا کے احسان کے شکر میں بالکل پگھلا دیا۔ایک دفعہ میرا تبادلہ شملہ کا ہو گیا۔وہاں ایک ایسے کہ تل (کرنل جو ڈوائن) سول سرین تھے۔جن کی سخت زبانی اور سخت گیری کی شہرت اس قدر تھی کہ میں نے روانہ ہوتے وقت بہت دعا کی کہ خدایا تو مجھے ہرقسم کی سختی سے بچائیوں۔غرض میں شملہ پہچا تو معلوم ہوا کہ وہ چارے کل سے بیمار ہیں اور واکر Walker ہاسپٹل میں داخل ہو گئے ہیں۔ایک ہفتہ یا عشرہ کے بعد معلوم ہوا کہ ان کو ڈاکٹری سرٹیفیکیٹ ویل ڈائیریا Hill Diarrhea کا دیا گیا ہے اور وہ لمبی چھٹی پر ولایت جا رہے ہیں۔غرض دس روز بعد وہ وا کہ اسپتال سے بالا بالا ہی ولایت ہمیشہ کے لئے چلے گئے۔نہ پھر مہندوستان میں آئے نہ میں نے ان کی شکل کبھی دیکھی۔اور خدا تعالیٰ نے ان کی جگہ ایک نیک نہا دوافسر کو تیل پہلے کو جو اتفاقی شملہ پر رخصت لے کر آئے ہوئے تھے وہیں لگوا دیا۔اور وہ میرے بڑے محسن ثابت ہوئے۔یہاں تک کہ جب میں تبدیل ہو کہ لائلپور جانے لگا تو انہوں نے اپنی لائبریری میں سے مجھے کئی قیمتی کتابیں بطور تحفہ دیں۔