مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 706 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 706

6-8 ہو گیا۔کہ اس سے مجھے سخت تکلیف محسوس ہوئی اور اتنی پریشانی بڑھی کہ آخر میں نے دعا کی کہ یا اللہ مجھے کبھی قرض کی بلاہیں نہ پھنسا ئیو اور پھر اسی وقت یقین آگیا کہ اب یہ منظور ہوگئی۔اب تیس سال کے بعد میں اس بات کے اظہار میں کوئی حرج نہیں دیکھتا کہ میں یہ بیان کردوں کہ پھر کبھی مجھ پر کسی قسم کا قرضہ نہیں چڑھا اور میں ان تیس سال کی ہر رات قرضے کی طرف سے اس آرام اور بے فکری کی نیند سویا ہوں کہ میرا دل ہی اس احسان الہی کی قدر کر سکتا ہے۔جب میں لوگوں کو قرضہ کی تکالیف اور وعدوں پر ان کی ادائیگی کے لئے اضطراب کو دیکھتا ہوں تو ہزار نعمتوں کی ایک نعمت اسے پاتا ہوں۔اور ہمیشہ دیکھتا ہوں کہ اگر میں کسی دن مرجاؤں تو انشاء اللہ کسی کا مقروض نہیں مروں گا اور اگر دست گرداں شائد کسی کا کچھ روپیہ دینا بھی ہو تو وہ اس کے فضل سے گھر میں موجود ہوگا۔اور آئندہ کی بات معلوم نہیں۔اور خدا کا علم سب علموں پر غالب ہے اور اس کا امراض کے علم پر غالب ہے۔اور وہ خود اپنے امر پر غالب ہے۔بات میں سے بات نکل آتی ہے۔اس لیے فکری کی نیند پر مجھے یاد آیا کہ ایک اور وجہ بھی بے فکری کی نیند کی ہے۔جو حضرت خلیفہ ایسیح نے ایک دفعہ اپنے لیکچرمیں بیان کی تھی۔وہ یہ کہ جب انسان سونے کے لیے لیٹے تو اس وقت تمام لوگوں کے قصور معاف کر کے سوئے ہیں اس وقت سے اس پر عامل ہوں اور دل ہی میں نہیں بلکہ زبان سے ایسے الفاظ ادا کر کے سوتا ہوں کہ میرے ذمہ کسی کا قصور نہیں۔خداوند تو گواہ رہو لہ میں نے جو قصور کسی کا میری ذات کے متعلق تھا وہ معاف کر دیا۔سو اس دن سے عجب راحت سوتے وقت اور عجیب معافیاں اپنے گناہوں اور غفلتوں کی اس رب العزت کی طرف سے پاتا ہوں۔بعض چھوٹے چھوٹے واقعات قبولیت دعا کے بڑے مزیدار ہیں۔مثلاً ایک لمبا سفر رات کا پیش آگیا۔میں دائم المریض ساری رات کا سفر اور جانے کا موسم۔پرتھ ریزرو کھانے کا موقع نہیں طا۔ڈھائی ٹکٹ لیا ، سوار ہوئے اتمام میتھ ریند و شدہ پائے۔آدھ گھنٹہ پہلے