مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 681
4A۔ایک کا بدلہ بڑھ چڑھ کر اسے ملے تاکہ پھر اُسے کسی قسم کی شکایت اپنے مالک کے متعلق زر ہے (دہم) اگر یہ سوال کہ بچہ کو باپ دادا کے افعال کی سزا کیوں ملتی ہے۔اُس سمچھ نے کیا گناہ کیا تھا ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ بچہ کو سزا کے طور پر وہ بیماری نہیں ہوئی۔اور اس وجہ سے دہ قابل ملامت نہیں ہے۔وہ اپنی تکلیف کا اجر خدا کے ہاں سے پائے گا۔ہر بچہ کو مشخص تکلیف پہنچا سکتا ہے۔اس کی ماں اسے زیادہ کھلا کر تکلیف دے سکتی ہے۔اس کا باپ اُسے آتشک کا ورثہ دے کر اُسے بیمار کر سکتا ہے۔اس کا بھائی اینٹ مار کہ اس کا سر پھاڑ سکتا ہے۔اس بچہ کی ہر ایسی تکلیف کے بدلے وہ مودی آخرت میں سزا پائے گا۔میں نے اسے تکلیف دی اور خود بچر آخرت میں جزا پائے گا جس نے لیے تصور دوسروں کا ظلم برداشت کیا۔خدا کی طرف سے تو ہر طرح فضل ہی فضل ثابت ہے۔(روزنامه المفضل ۲۴ اکتوبر ۱۱۹۴۴)