مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 677
464 ہیں۔اس دنیا کی بناوٹ کے ساتھ یہ تھیوریاں نہیں چل سکتیں۔- 18 -۱- قدرت الہی ہر چیز کا رنج یا پنیری بہت کثرت سے پیدا کرتی ہے۔پھر ناقص اور کمزور حصہ تلف ہو جاتا ہے۔اور اچھا باقی رہتا ہے۔جب ہر چیز کا پیج اور پنیری بکثرت تلف ہوتے رہتے ہیں۔تو انسانی بچہ کے تلف ہونے پر کیا اعتراض۔-۱۲۔جب کسی قوم کی آئندہ نسلیں کمزد را در خراب ہونے لگتی ہیں۔تو ان کے بچے بہت مرتے لگتے ہیں۔اور اس طرح وہ قوم اپنی آنے والی تباہی سے واقف ہو جاتی ہے۔اور بچاؤ کی تدبیروں میں لگ جاتی ہے۔پس یہ وارنگ Warning بھی ایک حکمت ہے۔مرنا بغیر ہمار ی کی تکالیف کے نہیں ہوتا۔اس لئے تکلیفیں ضروری ہیں۔کیونکہ روح اور رحیم کا اس قدر گہرا تعلق ہے کہ بغیر تکلیف کے علیحدگی ناممکن ہے۔گویا ناخن کو گوشت سے جدا کرتا ہوتا ہے۔اگر بغیر دکھ کے بچے یکدم مرجایا کرتے۔تو نہ اُن کا علاج ہو سکتا۔نہ علوم کھلتے۔نہ لوگوں کو ہمدردی اور تیمارداری کا موقع ملتا۔۱۲ بیمار بچوں اور دیگر مصیبت زدہ اشخاص میں دوسروں کے لئے خاص شفقت اور رحم پیدا ہو جاتا ہے۔کیونکہ وہ اپنے دکھوں کو دیکھتے ہیں۔ا تقومی کی جڑ بیماری کا پر میز ہے۔جب مریض بچہ بیماری کے لئے پر مینز کرتا ہے اور ضبط کی عادت ڈالتا ہے تو وہ بڑا ہو کر بھی تقویٰ اختیار کر سکتا ہے میرے نزدیک تو کوئی شخص متقی نہیں ہوسکتا۔جب تک کہ وہ جسمانی پر ہیز گار بھی نہ ہو۔کیونکہ دونوں کی پشت پر ایک ہی طاقت کام کرتی ہے۔۱۸ بچہ اطاعت نہیں کرتا۔جب تک اُسے لالچ یا ڈر نہ ہو۔ڈر خواہ مار کا ہو خواہ بیماری کا۔پس بیماری کے دکھ سے بھی بچوں میں اطاعت کا مادہ پیدا ہوتا ہے۔جو جڑ سے عبوریت کی -19۔دکھی کو دیکھ کر دوسرے لوگوں میں خدا کے شکر کا جذبہ پیدا ہوتا ہے کہ الحمد للہ ہم اس مصیبت سے محفوظ ہیں۔اور خدا کے شکر کا جذبہ بھی انسان کے تعلقات کو خدا سے