مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 674
بیش دکھ افراد یا قوموں پر سزا کے طور پر وارد ہوتے ہیں۔کیونکہ وہ خدائی اور عقلی قوانین پر عمل نہیں کرتے۔ایسے دکھوں میں بد پر میزیاں بھی داخل ہیں۔ایک بچہ کو تولنج کا درد کیوں ہوا۔یا تو ماں باپ نے جہالت کی وجہ سے یا لاڈ پیار کے سبب سے اسے ثقیل غذا کھلادی یا بچہ نے آپ ہی کوئی ایسی چیز کھالی۔قانون طبیعی سے چونکہ بچے۔بڑا۔عقلمند ہے معقل ارادتاً ید پرہیزی کرنے والا یا بھول کر اور غفلت سے کرنے والا سبھی سزا پاتے ہیں۔اس لئے اس دُکھ کا سمجھ لینا آسان ہے۔تکالیف کی حکمتیں ا سب سے بڑی حکمت تکالیف میں یہ ہے کہ خدا تعالیٰ ان کے ذریعہ بھی اپنے آپ کو پہچانا چاہتا ہے۔بہت کم لوگ ہیں جو نعمتوں اور احسانوں کی معرفت خدا کو پہچانتے ہوں۔اکثر وہ ہی گروہ ہے جو مصائب اور تکالیف بیماریوں اور شدائد کی وجہ سے اس کی طرف توجہ کرتا ہے۔اور یہ ایک عظیم الشان قائدہ ہے کہ خداشناسی دکھ اور تکالیف کے راستہ سے حاصل ہوتی ہے۔انسان اپنی مصیبت درد اور لاچاری کو دیکھ کر خدا کی طرف توجہ کرتا ہے بنا ہے کہ فرعون کو کبھی نزلہ اور درد سر کی تکلیف نہ ہوئی تھی نہ اُسے عمر بھر بخار چڑھا تھا۔نتیجہ یہ ہوا کہ وہ خدائی کا دعوی کرنے لگا۔اور موسیٰ علیہ السلام کے مقابلہ میں کھڑا ہوگیا۔اگر کوئی شخص مصائب اٹھا کر خدا کی طرف رجوع کرے۔یا اس کا بچہ تکلیف میں ہو۔تو دُعا کرے۔اس کے مرنے پر صبر کرے۔اور خدا کی طرف اپنی توجہ پھیرے۔یعنی ایک سچھ قربانی دے کر ابدی منبت خرید نے تو میرے خیال میں ماں باپ اور بچہ دونوں کے لئے یہ بہت نفع مند سودا ہے۔بچہ تو اپنی معصومیت کی وجہ سے اور ماں باپ رجوع الی اللہ کی وجہ سے نجات پائیں گے۔۲۔کسی بچہ کی بیماری اس کا قربانی کا پیکر اپنے کے لئے بھی ہوتی ہے۔کئی بچوں پر تجربہ کر کے ڈاکٹر اس مرض کا علاج اور وقتیں وغیرہ معلوم کر لیتے ہیں۔اور چند بچے خواہ مر