مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 673
٩٢ لئے انسان پیدا کیا گیا ہے۔ہمیں یہ اعتراض مرنے کا بالکل باطل ہے۔کیونکہ بہا انسان طرح طرح کی مصیبتیں اٹھا کر ستر سال میں مرتا ہے۔اور اس کے انجام کی کسی کو خبر نہیں کہ کیا ہو گا۔لیکن دو پرس کا بچہ جلدی مرکز تھا اسی لسبب بے گناہ ہونے کے جنت کی طرف جاتا ہے۔جہاں اس کے دیگر رشتہ دار بھی اسے مل جائیں گے۔بتائیے وہ نقصان میں ہے یا نفع ہیں ؟ رہا یہ امر کہ بچوں کو مرتے وقت تکالیف کیوں ہوتی ہیں۔یہ بھی کوئی مخصوص امر نہیں۔ہر جاندار کو موت کے دروازہ میں سے گزرنا پڑتا ہے۔اور ہر موت کے ساتھ حکمت الہی نے تکالیف وابستہ کر دی ہیں۔ورنہ یہ جہان اجڑ جاتا۔لوگ اگلے جہان کے شوق میں ایک ایک دن میں فوج در فوج خود کشیاں کر لیتے۔یا احتیاطیں پر ہیز اور علاج نہ کیا کرتے۔یہ ہماری کی تکلیفیں اور سکرات الموت ہی تو ہیں جن کے خوف سے انسان مرنے سے ڈرتا ہے ورنہ اگر مرنا بغیر دیکھ کے ہوتا۔تو انسان دنیا میں رہنا ہی پسند نہ کرتا۔بیماری کے دُکھے ڈال کم اللہ تعالیٰ بندوں کو مجبور کرتا ہے کہ اپنا علاج کرو۔بھوک اور افلاس کا ڈکھ ڈال کر مجبور کرتا ہے کہ محنت کرد اور کھا کر کھاؤ۔وغیرہ وغیرہ۔غرض ہر دکھ کسی سکھ کے حصول کے لئے ہے۔اور یہ چیز اس دنیا کے لئے جو دار المحن۔دارالعمل۔دارالامتحان اور دار الابتلاع ہے ضروری ہے۔ورنہ انسان کسی ایدی زندگی اور دائمی اور کا ستی نہ ہو سکتا۔بلکہ جوانوں کی طرح پھر جگ کر مر کر مٹی ہو جاتا۔اس کے لئے کوئی دارالجزاء نہ ہوتا۔نہ ترقی کے سلمان ہونے نہ بدی نعتیں۔پس معصوم کچھ کا مرنا اس کے لئے آئندہ جہان میں مفید ہے۔مرنا ہر جاندار کے لئے لازمی ہے۔اور مرنے کو دکھوں سے وابستہ کرنا حکمت کے ماتحت ہے۔ہاں بطور نمونہ نہیں اتنا ثابت کرنا چاہیئے کہ بچوں کے یا انسانوں کے دکھوں میں کیا فائدے ہیں۔بیماری کا دُکھ تو بچوں اور بڑوں سب پر حاوی ہے۔اس لئے میں یہاں بچوں اور بڑوں دونوں کے متعلق کچھ فوائد بیان کروں گا۔یہ ضروری نہیں کہ صرف بیماری کے مرکھ کے فوائد ہی بیان کروں۔بلکہ دوسرے مصائب مثلاً افلاس وغیرہ کا بھی ضمناً ذکرہ آجائے گا۔