مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 64
۶۳ صاحبہ کے پاس بطور امانت رکھوا دی اس صند و قیچی میں فقل لگا رہتا تھا اور دوسرے تیسرے روز حضرت اماں جان ) جو دربیہ ان کے پاس ذاتی خرچ کا ہوتا تھا اس مندو تھی میں ڈال دیا کرتی تھیں میں میں سے دس روپے ماہوار والد صاحب کے دس روپیوں کے ساتھ مجھے لاہور پہنچ جایا کرتے تھے۔تو پچاس روپے فیس کے اور چار سو روپے نئی کتابوں کی قیمت دستی لے جایا کرتا تھا۔ان دنوں لاہور کے اخراجات بمقابل آج کل کم ہوا کرتے تھے میں اپنے تیس پینتیس روپے ماہوار میں سے ایک مکان کرا یہ پھنٹے کو رہا کرتا تھا اور ایک ملازم لڑکا بھی جو باورچی کا کام کر سکتا ہوں کھا کرتا تھا اور ہم دونوں کا کھانا، سقہ، خاکروب، نائی، دھوبی اور بالائی اخراجات سب اس میں پورے ہو جاتے تھے۔کپڑے رخصتوں کے ایام میں قادیان میں بن جایا کرتے تھے۔ساتھ ہی خدا نے یہ فضل بھی فرمایا کہ مجھے پانچون سال برابہ سرکاری وظیفہ ا آ رہا۔اس طرح میری میڈیکل کالج کی تعلیم اس طرح ختم ہوئی جس میں بیشتر حصہ حضرت اماں جان) کی طرف سے اور کچھ میرے وظیفہ کا اور دس روپے ماہوار حضرت والد صاحب کی طرف سے حصہ تھا۔اسیرت حضرت اماں جان) نصرت جہاں بیگم ۲۲ تا ۲۶) شقیق بہین نے معزرت نفس کا خیال رکھا اور رازداری سے اپنا قول ہنجھایا اس کا گہرا۔اثر حضرت میر صاحب کے دل پر مسلسل رہا فرماتے ہیں۔جو روپیہ ان کو ذاتی جیب خرچ کے لئے ملتا تھا اس میں مسلسل اتنے سال اپنے پرشنگی ترستی گوارا فرما کہ انہوں نے میرے پر اتنا بڑا احسان فرمایا جس کے اظہار کا موقع اس سے بہتر اور کوئی نہیں ہو سکتا ان کا