مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 63
۶۲ پڑتی ہے یا اور کوئی نوکری کہ اتنے میں ایک دن گھر کی کسی خادمہ نے میرے ہاتھ میں ایک ملفوف خط دیار افسوس وہ خط میرے پاس محفوظ نہیں رہا مگر اس کا خلاصہ مطلب یہ تھا۔تم اپنی ڈاکٹری کی تعلیم کے لئے تردد نہ کم و انشاء اللہ مزید جو خرچ در کار ہوگا وہ میں پورا کروں گی اور یہ مت خیال کرو کہ حضرت صاحب سے لے کر دوں گی بلکہ جو میرا ذاتی خرچ ہے اسی سے دیا کروں گی بلکہ انشاء اللہ حضرت صاحب کو بھی اطلاع نہ ہوگی۔آخر میں نصرت جہاں لکھا تھا اس کے بعد جب داخلہ کا وقت قریب آیا تو میں نے حضرت والد صاحب سے کہا کہ آپا صاحبہ کا اس مضمون کا خط مجھے ملا ہے اور اب داخلہ قریب ہے آپ تیاری کریں۔انہوں نے آپا صاحبہ سے ذکر کیا کہ فلاں تاریخ کو داخلہ ہے اور حمد امیل لاہور ڈاکٹری میں داخل ہونے جا رہا ہے۔خیرمیں لاہورگیا۔وہاں علم ہواکہ میران بر سب سے اوپر ہے اور سیب فسٹ ڈویژن کے مجھے بارہ پہلے ماہوار وظیفہ بھی ملے گا بفرض نام داخل کا کر میں آگیا یہاں اگر یا ہوار خرجکا یہ انتظام ہوا کہ بارہ پہلے ماہوار وظیفہ سرکاری دوس روپے حضرت والد صاحب کی طرف سے اور دس روپے حضرت اماں جان) کی طرف سے۔اس طرح ماہوار خروج بآسانی پورا ہوگیا جو ان دنوں کے مطابق کافی تھا۔اب رہیں فیسیں اور کتا ہیں اُن کے لئے پہلے سال تقریباً تین سو روپے داخل کرنا پڑا۔دوسرے اور تیسرے سالوں میں قریبا سوروپے اور چوتھے سال پھر قریبا تین سو پچاس روم ہے۔آپا صاحب نے ان دس روپے ماہوار اور فیسوں اور کتابوں کے لئے تمام رقم جمع کرنے کی یہ تجویز ہوئی کہ حضرت اماں جان) نے ایک صندوقچی مشتغل جس میں روپے ڈالنے کا سوراخ بنا ہوا تھا۔حضرت والدہ