مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 624
تو پہلے تیری ہی گردن اڑا دوں گا۔وہ شخص پیچ پیچ مسلمان تھا۔کہنے لگا۔خیر لوگوں کو قتل کرتے پھرتے ہو۔پہلے اپنوں کی تو خبر ہو۔ان کو مار لو۔تو پھر اور طرف رُخ کرتا۔عمرہ پوچھنے لگے وہ کون ہے مسلمان بولا پہلے تو اپنی سگی بہن اور اس کے میاں سعید کی خبر لو۔عمر نے یہ سن کر سیدھا بین کے گھر کا رخ کیا۔اس زمانہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ دستور تھا کہ جو مسلمان نظری منفیلس ہوتا۔اسے کسی کھاتے پیتے مسلمان کے سپرد کر دیتے تاکہ تقریب کا گزارہ ہو سکے۔چنانچہ عمر کے بہنوئی سعید کو بھی دو غریب مسلمان سپرد کر رکھے تھے۔عمر نے وہاں پہنچے کہ دروازہ کھٹکھٹایا۔اندر سے آواز آئی کون ؟ عمر نے کہا۔میں ہوں خطاب کا بیٹا۔اس وقت انہوں نے بنا کہ اندر کئی آدمی بیٹھے کچھ پڑھ رہے ہیں۔حضرت عمر خود بیان کرتے ہیں کہ میری آواز ہیں۔شن کر یہ لوگ ادھر اُدھر چھپ گئے اور گھبراہٹ میں دو کتاب بھی رہیں بھول گئے۔پھر میری بہن نے دروازہ کھول دیا۔میں نے اس سے پوچھا سُنا ہے تم بھی مسلمان ہو گئی ہو۔انہوں نے کہا۔ہاں۔اس پر میں نے جو کچھ میرے ہاتھ میں آیا۔اٹھا کہ مارنا شروع یہاں تک کہ اس کا سر پھٹ گیا۔اور توان کی نکی بہنے لگی۔وہ رونے لگیں اور کہتی جاتی تھیں بھائی چاہے مار ڈالو میں تو اب مسلمان ہو چکی۔میں نے جو خون دیکھا۔تو ہٹ کر پورے ایک تخت پر جا بیٹھا۔وہاں ایک کتاب پڑی دیکھی۔میں نے کہا یہ کیا کتاب ہے مجھے دور میری بہن تے کہا کہ خیروار اسے ہاتھ نہ لگانا۔اس کتاب کو پاک لوگوں کے سوا کوئی نہیں چھو سکتا۔تم لوگ خدا کے حکم کے مطابق غسل نہیں کرتے۔اس لئے ناپاک ہو۔ناچار میں نے غسل کیا اور اس کتاب کو پڑھنے لگا۔جب میں نے بسم الله الرحمن الرحیم پڑھی تو بے خود ہو گیا اور کتاب ہاتھ سے رکھ دی۔پھر جب ذرا دل ٹھکانے ہوا تو یہ آیت پڑھی۔سَحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَوتَ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۚ وَهُوَ الْعَزِيزُ الحكيم (الحشر (۲) ترجمه و آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ کی تسبیح کہ رہا ہے اور وہ