مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 60
۵۹ کے مرجائے گا۔یہ لکھ دے کہ اسحق بھی فوت ہو گیا ہے۔اور تم دیکھتے ہی فوراً یہاں آجاؤ۔چنانچہ میں نے یہ بھی لکھ دیا۔اور خط کو ڈال کے بہنے میں ڈال دیا۔اس کے بعد دو تین دن میں شیخ حامد علی صاحب مرحوم قادیان سے حضور کے بھیجے ہوئے آگئے ،اتنے میں والدہ صاحبہ کو بخار سے آرام آگیا تھا۔(غالباً میر یا تھا) اس وقت سب قبلہ ظاہر ہوا تو حامد علی صاحب (اللہ تعالیٰ آپ سے راضی ہو) نے قادیان جا کہ حضرت کے حضور عرض کر دیا۔کہ یہ بات یہ تھی۔چنانچہ حضور فرماتے ہیں۔ہ اور اس خطہ لکھنے کا صرف یہ باعث ہوا کہ چند روز اسحق اور اسمیل کی والدہ سخت بیمار رہیں۔اور اُن کی خواہش تھی کہ اس حالت بیماری میں جلد نہ ان کی لڑکی اُن کے پاس آجائے۔اس لئے کچھ تو بیماری کی گھراہٹ اور کچھ ملنے کے اشتیاق سے یہ خلاف واقعہ خط میں لکھ کر بھیج دیا۔د تریاق القلوب ایڈیشن اول صفحه ۷۴) کل واقعہ یہ ہے کہ والدہ صاحبہ کی بیماری کی سخت گھراہٹ اور بحران اور بیقراری جو اب بھی میری آنکھوں کے سامنے ہے انکو بہت حد تک معمر قرار دیتی ہے ساتھ ایک دودھ پیتے بچے کا حشر اُن کو نظر آتا تھا کہ کیا ہو گا۔اس لئے انہوں نے جلد سے جلد اپنی لڑکی کو قادیان سے بلانے کے لئے ایسا لکھوا دیا۔پس کچھ حصہ بیماری کا کچھ خواہش ملاقات کا جو ایسے موقع پر ہوا کرتی ہے الهام إن كيدكن عظيم اب رہی یہ بات کہ الہام ان بد گفت عظیم تو بڑا سخت اور خطرناک الہام ہے سو اس کی بابت یہ سمجھ لینا چاہیئے کہ زلیخا کے لئے یہ سبب اس کی خاص شرارت کے واقعی یہ الفاظ لفظی اور معنوی طور پر ھیجے تھے لیکن قرآن میں آکر یہ آیت بطور ضرب المثل یا متداول اور متعارف فصیح و بلیغ فقرہ کے لینے چاہیں نہ کہ وہ معنی جو پہلی دفعہ اس