مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 599
۵۹۸ میھی اسی طرح الگ ہوتے چلے گئے۔اور آخر میں یہ رہ گیا کہ کوئی سیخانشی کی طرح خاموش ہو۔اور سلسلہ کی طرف رغبت رکھتا ہو اور و قسمتی نہ کرتا ہو۔اور کسی احمدی کا خاص محسن ہو۔تو ان خاص لوگوں کو اجازت دے دی گئی۔کہ اپنے امام کے پیچھے ان کا جنازہ پڑھ لیں۔کیونکہ متوفی مشرکین میں نہیں بلکہ اہل کتاب میں داخل ہے۔اس مرحلہ پر حضور کا انتقال ہو گیا۔آپ کے بعد جب خلفاء کی تسکین دین کا زمانہ آیا تو انہوں نے تمام باتوں کو اور اسلاف کے عمل اور سبیل المومنین کو دیکھ کر اور حضرت مسیح موعود کے تدریجی انقطاع پر غور کر کے ضروری تھا کہ آئندہ بھی اسی طرح بند کر دیا جائے جیسا کہ تیرہ سو سال تک پہلے مسلمانوں میں بند رہا۔اور اس مسئلہ کا ماشا اب ہم پر ایسا ہی فرض ہے جیسا کہ دیگر اسلامی مسائل کا مانتا۔ورنہ ہم یہ عہد اور غیر سبیل المومنین پر چلنے والے ہوں گے۔بے شک مشرکین کا جنازہ قطعی حرام ہے۔لیکن اہل کتاب کا لبعض خاص حالات ہیں صرف جواز کے ماتحت آتا تھا مگر خلفاء نے اس نادر الوقوع جوانہ کو بھی بالکل ناجائز کر دیا۔یہ ہے حقیقت میری تحقیق میں جنازہ کے مسئلہ کی۔اس میں حرمت کا حصہ بھی واضح ہو گیا۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود کے جواز والے حقہ کی بھی توجہ ہوگئی۔اور خلفاء کے فتوی کی بھی اتباع کی ضرورت معلوم ہوگئی آگے واللہ اعلم بالصواب۔میں نے تو یہ مسئلہ اس طرح سمجھا ہوا ہے۔(نوٹ ملا۔اس طرح کا ایک اور نمونہ بھی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین بھی کو جزیرہ عرب سے نکال دیا تھا۔مگر اہل کتاب کو نہیں نکالا۔بلکہ رہنے دیا تھا۔حضرت تعریض نے اپنے زمانہ میں ان کو بھی بالکل نکال دیا۔کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا منشاء ہی تھا۔کہ آخر کار ان کو بالکل ہی نکال دیا جائے تو امن ہو سکتا ہے)۔(نوٹ ملا) مذکورہ بالا بیان کا مطلب یہ نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلفائے سابقین نے اور حضرت مسیح موعود ( آپ پر سلامتی ہوم کے بعد خلفان آخرین نے کوئی نیا دین گھڑ لیا۔ملک مطلب صرف اتنا ہے کہ گرا نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یا حضرت مسیح موعود زندہ رہتے تو خود بھی ہیں فیصلہ فرماتے جو خلفاء ا روزنامه الفضل ۷ ستمبر ۱۹۲۸ء) نے کیا)۔