مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 598
۵۹۷ فرمایا۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ حضور نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیردی کی۔اور حیں طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ میں ستر دفعہ سے بھی زیادہ مغفرت مانگوں گا۔اور عملاً نجاشی کا جنازہ پڑھا تھا۔اسی طرح بعض حالات میں حضرت مسیح موعود نے بعض لوگوں کے دوستوں اور عزیزوں کو جنازہ کی اجازت دے دی اور وہ بھی اس شرط پر کہ شخص توقی ید گو نہ ہو۔دشمن نہ ہو بلکہ خاموش ہو۔اور حسن ظن رکھتا ہو۔اور امام جنازہ احمدی ہو۔اور ساتھ ہی فرما دیا کہ ان کا جنازہ ہم پر فرض نہیں۔صرف احسان کے طور پر پڑھا جا سکتا ہے۔شائد استقلال آیت اور سنت سے کیا تھا آیت تو پہلے گزر چکی ہے۔مَا كَانَ لِلنَّبِي وَالَّذِينَ آمَنُوا أَن يَسْتَغْفِرُ والمُشْرِكِينَ (التوبه (۱۳) یعنی قرآن کی رو سے مشرک کا جنازہ تو قطعا حرام ہے۔باقی رہے اہل کتاب ان کی بایت خاموشی ہے۔غالباً آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اسی وجہ سے بجاشی کا جنازہ جو گونہ مصدق تھا۔مگر ظاہر میں مسلمان نہ تھا۔پڑھا تھا۔اس لئے کہ وہ مسلمانوں کا محسن اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف مائل تھا۔اور اہل کتاب تھا۔گردہ با قاعدہ کلمہ گو اور نماز روزہ ادا کرنے والا نہیں تھا۔صرف مجمیل مصدق تھا۔مگر اور اہل کتاب کا جنازہ نہیں پڑھا تھا۔جس سے ثابت ہوا کہ کسی محسن اہل کتاب کا لطور شاذ کے اپنے امام کے پیچھے جنازہ جائز رکھا گیا تھا۔اور اسی طرح پر بطور شاذ حضرت مسیح موعود ( آپ پر سلامتی ہو) کی اجازت تھی۔پھر جب خلافت اسلامیہ کا زمانہ آیا۔تو غلفار نے ساری اور پیچ پیچ سوچ کر جماعت کا فائدہ اسی میں مد نظر رکھا کہ اب دقت آگیا ہے۔کہ ایسا جنازہ بھی نہ پڑھا جائے۔ورنہ جماعت کے لئے یہ بات مضر ہوگی۔اس لئے نجاشی کے بعد پھر آج تک کسی نیم مومن اہل کتاب کا جنازہ کسی مسلمان نے کسی زمانہ میں بھی نہیں پڑھا۔مرض دین کی تمکین اس مسئلہ پر خلفاء اور مومنین نے یہی کی۔کہ اسلام میں یہ بات اب نا جائز ہے۔اس کے بعد حضرت مسیح موعود کا زمانہ آیا۔آپ نے پہلے سب مسلمان مخالفین کو مسلمان ہیں قرار دیا پھر فاسق پھر کافر۔اور رفتہ رفتہ نمازیں اور لڑکیاں دینے کے تعلقات بالکل الگ ہو گئے۔جنازے