مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 565
۵۹۴ حضرت میر محمد الحق صاحب کی وفات کس طرح ہوئی ؟ میر صاحب ( اللہ تعالیٰ آپ سے راضی ہو) کو کئی سال سے ایک بیماری تھی جو عود کہ کر کے آتی تھی۔یعنی اُن کے ذرائع کا مصفا پانی ناک کے راستے پکنا شروع ہو جاتا۔اور پھر خود ہی بند ہو جایا کرتا تھا۔یہ ایک بہت شاد بیماری ہے جس کا کوئی علاج اب تک معلوم نہیں ہوا۔ہر حملہ کے بعد مرحوم بہت کمزور ہو جاتے تھے اور اہل خانہ سے اُسے چھپانے کی کوشش کرتے تھے تا کہ وہ گھیرا نہ جائیں۔لاہور کے جلسہ مصلح موعود سے واپس تشریف لائے تو نزلہ ہو گیا پنجار آنے لگا اور ناک میں سے پانی گرتا پھر شروع ہو گیا۔۱۲ مارچ کو مجھے بلایا۔میں نے نسخہ تجویز کیا اشارہ سے کہا کہ والدہ دادو کو اس پانی کے گرنے کی خیر نہ ہو۔14 مارچ کی شام کو ہ بچے شیخ احسان علی صاحب کی دکان کے آگے ملے۔فرمایا کہ سر میں شدید درد ہے۔کئی ٹکیاں اسپرین کی کھا چکا ہوں اب گھر جا رہا ہوں (گیسٹ ہاؤس میں مقیم تھے) میں بیسن کہ بہت مبارک میں عصر کی نمازہ پڑھنے چلا گیا۔نماز سے فارغ ہوا تھا کہ کسی نے کہا کہ میر صاحب دار الشیوخ میں بڑ کے درخت کے نیچے پڑے ہیں اور گر کر بے ہوش ہو گئے ہیں۔جب میں وہاں پہنچا۔تو دیکھا کہ لڑکے انہیں دیا ر ہے تھے اور پیر جی رہے تھے۔میاں عبد المنان صاحب بھی پاس تھے۔فرمایا کہ ناقابل برداشت ورد میرے سر میں ہے۔اور بغیر مارنیا کے کسی چیز سے فائدہ نہ ہوگا۔میں نے شیخ احسان علی صاحب کے ہاں سے مارقیبا انجیکشن تیار کرا کے منگوائی اور لگا دی۔تھوڑی دیر کے بعد قدرے سکون ہو گیا۔اتنے میں حضرت مصلح موعود ) نے گیسٹ ہاؤس تک جانے کے لئے اپنی موٹر بھی