مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 548
۵۴۷ الَّذِيْنَ اعْتَدَ وَا مِنْكُمْ فِي السَّبْتِ (البقره : 44) ترجمہ : اور تم ان لوگوں کے انجام ) کو جنہوں نے تم میں سے (ہوتے ہوئے) سبت کے معاملہ میں زیادتی کی تھی۔اور کہا کہ قوم مخالف کی طرف اشارہ ہے۔اس کا ترجمہ ہے کہ وہ قوم مخالف ایسی ہوگی۔جو تم میں سے ہی ہوگی۔اور وہ لوگ بہت کے دن یعنی ہفتہ کے دن ظلم اور سرکشی کریں گے۔اب ہم تاریخ سلسلہ کو دیکھتے ہیں۔کہ ہم میں سے ہی ایک گروہ نے مہینہ کے روز جو خلافت ثانیہ کی بعیت کا پہلا دن تھا۔بغاوت اور سرکشی اختیار کی تھی ہیں یہ الہام ہفتہ والے دن کے باغیوں اور سرکشوں کا صرف غیر مبایعین پر ہی پورا ہوتا ہے اور لفظاً نفطاً پورا ہوتا ہے۔یعنی را کچھ سرکش لوگ ہوں گے (۲) وہ اسی جماعت میں سے ہوں گے (۲) وہ ہفتہ کے دن سرکشی کریں گے۔اب اس سے زیادہ واضح اور صاف پیش گوئی اور کیا ہوسکتی ہے۔(تذکرہ من) (۳) نیاست کابل میں قریباً پچاسی ہزار کے آدمی مریں گے " ( تذکره ۶۵۲) یہ وحی بار چار کی ہے اور نہیں اکیس سال بعد بچہ سقہ کی جنگوں میں بقول اخبارات کے قریبا نوے ہزار آدمی ہلاک ہوئے۔یہ تعداد تو لوگوں کے اندازے تھے۔اصل اور صحیح تعداد تو وہی ہے جو خدا تعالیٰ نے بتائی۔اور کسی عدد کا ایک پیشگوئی میں بتایا جانا پھر اس پیشگوئی کا اسی عدد کے مطابق پورا ہوتا ایسا غیب کسی انسان کا کام نہیں ہو سکتا۔بلکہ صرف ایک عالم الغیب سہتی کا کام ہے۔جیسے آج کل کے بعض بڑے بڑے حساب وانوں نے یہ نظریہ پیش کیا ہے۔کہ دور شمسی ۴۸ ہزار سال میمک چلتا ہے۔پھر اس میں ایک فنا یا عظیم الشان تغیر آ جاتا ہے۔لیکن ان کی اس گنتی ہیں فداسی کسر رہ گئی۔اور کچی گنتی رہی ہے۔جو مغرب کے ایک امی نے جسے خود ہزار سے اوپر