مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 539 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 539

۵۳۸ نہیں ہوا کہ کیا پکا تھا اور ہم نے کیا کھایا۔بڑیاں چوسنے اور بڑانوالہ اُٹھانے۔زور زور سے چپڑ چپڑ کرنے۔ڈکاریں مارنے یار کا بیاں چاٹنے یا کھانے کے مدح و ذم اور لذائد کا تذکرہ کرنے کی آپ کی عادت نہ تھی بلکہ جو پکتا تھا وہ کھایا کرتے تھے کبھی کبھی آپ پانی کا گلاس یا چائے کی پیالی بائیں ہاتھ سے پکڑ کر پیا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ ابتدائی عمر میں دائیں ہاتھ میں ایسی چوٹ لگی تھی کہ اب تک بوھیل چیز اس ہاتھ سے برداشت نہیں ہوتی۔آریوں بیٹھ کہ آپ کو کھانے کی عادت نہ تھی بلکہ آلتی پالتی مار کر بیٹھتے یا بائیں ٹانگ بٹھا دیتے اور دایاں گھٹنا کھڑا سکتے۔کیا کھاتے تھے ؟ میں نے پہلے ذکر کیا ہے کہ مقصد آپ کے کھانے کا صرف قوت قائم رکھنا تھا نہ کہ تقت اور ذائقہ اُٹھانا۔اس لئے آپ صرف وہی چیزیں ہی کھاتے تھے جو آپ کی طبیعت کے موافق ہوتی تھیں۔اور جن سے دماغی قوت قائم رہتی تھی تاکہ آپ کے کام میں سرج نہ ہو۔علاوہ بریں آپ کو چند بیماریاں بھی تھیں جن کی وجہ سے آپ کو کچھ پر سینز بھی رکھنا پڑتا تھا۔مگر عام طور پر آپ سب طیبات ہی استعمال فرمالیتے تھے۔اور اگر چہ آپ سے اکثر یہ پوچھ لیا جاتا کہ آج آپ کیا کھائیں گے۔مگر جہاں تک نہیں معلوم ہے خواہ کچھ پکا ہو آپ اپنی ضرورت کے مطابق کھا ہی لیا کرتے تھے۔اور کبھی کھانے کے بد مزہ ہونے پر اپنی ذاتی وحید سے خفگی نہیں فرمائی۔بلکہ اگر خراب پکتے ہوئے کھانے اور سالن پر نا پسندیدگی کا اظہار بھی فرمایا تو صرف اس لئے اور یہ کہہ کر مہمانوں کو یہ کھانا پسند نہ آیا ہوگا۔روٹی آپ تندوری اور چولھے کی دونوں قسم کی کھاتے تھے۔ڈیل روٹی چائے کے ساتھ یا بسکٹ اور بکریم بھی استعمال فرمالیا کرتے تھے۔بلکہ ولایتی بسکٹوں کو بھی جائزہ فرماتے تھے۔اس لئے کہ ہمیں کیا معلوم کہ اس میں چربی ہے۔کیونکہ بنانے والوں کا ادعا تو