مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 515
۵۱۴ پوری نہ ہو گی۔چنانچہ انہوں نے سر کو اس طرح کا ٹا کہ گردن بالکل اس کے ساتھ نہ تھی اور اسے لا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں ڈال دیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ اس امت کا فرعون تھا۔(بلکہ فرعون سے بدرجہا زیادہ شقی۔کیونکہ فرعون تو جب ڈوبنے لگا تو اس کا نمبر سب ہوا ہو گیا۔اور وہ کہنے لگا۔کہ میں موسی کے رب پر ایمان لایا۔مگر یہ ابو جہل مرتے مرتے بھی تکبر کے مارے کہتا تھا۔کہ ذرالمبی گردن رکھ کے کاٹنا۔فرعون تو دریا میں غرق ہوا۔مگر ابو جہل بدر کے کنویں میں غرق کیا گیا)۔بدر کے بعد کفار کے مردوں کو خطاب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بدر میں تھے کے بعد تین دن تک ٹھہرے تین دن کے بعد آپ سوار ہوئے اور اس کنویں کے کنارے پر تشریف لائے۔جہاں کفار کی لاشوں کو ڈلوا دیا تھا۔وہاں کھڑے ہو کر آپ نے نام نام ایک ایک سردار کو پکارا۔اور کہا کہ کیا تمہیں یہ آسان نہ تھا۔کہ تم اللہ اور اس کے رسول کی بات مان لیتے ہم سے تو جو وعدہ ہمارے رب نے کیا تھا۔وہ سینچا ہو گیا۔کیا تم نے بھی آگے جا کہ اپنے رب کا وعدہ سچا پا با حضرت عمریض نے عرض کیا۔یارسول الله کیا یہ مُردے سنتے ہیں۔آپ نے فرمایا کہ خدا گواہ ہے یہ مردے اس وقت زندوں سے زیادہ میری بات سن رہے ہیں۔جنگ بعد میں جو صحابہ شریک ہوئے۔ان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے زیادہ فضیلت والا فرمایا ہے۔بلکہ یہاں تک کہا کہ اللہ تعالی نے ان لوگوں کے بارہ میں فرمایا ہے کہ اسے اہل بدر اب جو چاہو کرو۔میں نے تمہیں بخش دیا۔جو مسلمان بدر میں شریک ہوئے تھے ان کو بدری کہتے ہیں۔