مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 514
۵۱۳ اُسے اور چکر دیتا رہا۔یہاں تک کہ آپ کا دم بند ہو گیا۔اور قریب تھا کہ آپ مر جائیں۔حضرت ابو بکرام بھی اس وقت وہاں تھے۔انہوں نے اس کم بخت کے ہاتھ پکڑ لئے۔اور مشکل آپ کو چھڑایا۔اور قرآن کی یہ آیت پڑھی۔کیا تم اس شخص کو صرف اس تصور پر قتل کرتے ہو کہ وہ صرف اللہ کو اپنا پر ور دگار کہتا ہے۔(اتقتلون رجلا ان يقول ربي الله) جناب ابوطالب کو امداد کا ثواب ایک دفعہ حضرت عباس نی آپ کے چاہنے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا که یارسول اللہ کیا آپ کی وجہ سے آپ کے چا ابو طالب کو بھی کوئی خواب ہوگا۔کیونکہ وہ آپ کی حمایت کیا کرتے تھے۔اور آپؐ کی خاطر لوگوں سے مقابلہ کیا کرتے تھے۔آپ نے فرمایا ہاں ان پر اتنی تھوڑی تکلیف ہے کہ جہنم کا عذاب صرف ان کے ٹخنوں تک ہے۔اگر وہ میری امداد نہ کرتے تو مندر کے سب سے پہلے درجہ میں ہوتے، مگر جہنم کی آگ ٹھنے بیک کی بھی ایسی سخت ہوگی۔کہ اس کی گرمی سے ان کا دماغ کھولنے لگے گا۔ابوجہل کا تکبر بعد کے دن فتح کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی جاکر اور جہل کا حال تو دیکھو۔اس پر ابن مسعودونو اس کی تلاش میں نکلے دیکھا کہ اسے معاذ اور معوذ نے قتل کر دیا تھا۔مگر ابھی ذرا سادم با تی تھا۔ابن مسعودوں نے اس سے کہا کہ کیوں جناب آپ ہی ابو جہل ہیں تا۔اس نے کہا ہاں۔اس پر ابن مسعود نے اس کی ڈاڑھی پکڑ لی وہ بولا کیا آج مجھ سے بھی بیٹا کوئی آدمی مارا گیا ہے ؟ ابن مسعود اس کی گردن کاٹنے لگے۔تو کم بخت بولا کہ لمبی گردن رکھ کر سر کاٹنا تا کہ لوگوں کو معلوم ہو۔کہ میں سب کا سردار ہوں۔ابن مسعود نے کہا کہ تیری یہ حسرت بھی