مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 502
۵۰۱ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات اور عادات دیکھنے کا خوب موقعہ ملا۔آخر ایک دن انہوں نے آپ کی خدمت میں عرض کیا کہ اے محمد ! میں آپ میں ایسی خصلتیں دیکھتا ہوں کہ میرا خیال ہے کہ آپ ہی وہ نبی ہیں۔جو عرب کی سرزمین سے پیدا ہوں گے۔ہمیں آپ کی تصدیق کروں گا اور جب آپ دعونے کریں گے تو آپ کے پاس حاضر ہو جاؤں گا۔یہ خز بیڈ پھر سال ہا سال آپ سے نہیں ملے۔فتح مکہ کے بعد وہ مسلمان ہو کر حاضر ہوئے۔تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دیکھے کہ 66 فرمایا ب خوش آمدید اے سب سے پہلے مہاجر ، خرید نے عرض کیا۔یا رسول اللہ میں حاضر ہونے سے اس واسطے نہیں رکا کہ مجھے کوئی شبہ تھا۔یا وہ بات جو میں نے آپ سے کبھی تھی۔اس سے برگشتہ ہو گیا تھا۔بلکہ میں تو آپ کو برابر مانتا تھا۔اور قرآن پر یقین رکھتا تھا اور نیتوں کا منکر ہو گیا تھا۔مگر بات یہ ہوئی کہ ہمارے ملک میں پے در پلے ایسے قحط پڑے کہ میں نکل نہ سکا۔اسلام کے لئے فقیری اختیار کی دیکتا مصعب بن زبیر صحابی کا خاندان بہت امیر تھا۔وہ مکہ کے رہنے والے تھے۔خود وہ نہایت اعلیٰ درجہ کے کپڑے پہنا کرتے تھے اور امیرانہ زندگی بسر کرتے تھے۔اسی طرح جب گھر سے باہر نکلتے تو بڑے ٹھاٹھ اور بانکپن کے ساتھ۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی منادی کی۔تو خدا نے ان پر بھی فضل کیا اور وہ مسلمان ہو گئے۔ان کی ساری برادری اور قوم پھر تو ان کی دشمن ہوگئی۔اور وہ سب امیری ٹھاٹھ خاک میں مل گئے۔ایک دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس حال میں دیکھا۔کہ صرف ایک پرانی چادر اُن کے بدن پر تھی۔اور اس نہیں بھی کئی پیوند چھڑے کے لگے ہوئے تھے۔ان کی یہ حالت دیکھ کہ آپ کو ان کا وہ زمانہ بھی یاد آگیا جب وہ امیرانہ حالت میں رہا کرتے تھے اور آپ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔