مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 489
۴۸۸ حسن سلوک اور برداشت حضرت انس فرماتے ہیں۔کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کہیں جارہے تھے۔اور آپ پر ایک موٹے حاشیہ کی چادر تھی۔اتنے میں ایک گنوار آدمی نے بڑھ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر کو اس زور سے کھینچا۔کہ آپ کی گردن پر اس چادر کے حاشیہ کا نشان پڑ گیا۔وہ گنوار کہنے لگا کہ مجھے بھی اللہ کے مال میں سے کچھ دلوائیے۔آپ اس کی اس حرکت پر سکلائے۔اور خادموں سے فرمایا۔کہ اسے کچھ دے دو۔زہر والی بکری دعوت میں (خیبر) حضرت ابو بکر رض بیان کرتے ہیں کہ جب خیبر فتح ہوا تو یہودیوں کی طرف سے آپ کے لئے ایک بنی ہوئی بکری کھانے کے لئے آئی۔اس میں ان ظالموں نے زہر ملا دیا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہاں جتنے یہودی ہیں سب کو جمع کرکے میرے سامنے بلا لاؤ جب وہ سب آگئے۔تو آپ نے فرمایا میں تم سے ایک بات پوچھتا ہوں۔کیا تم پیچ سے تا دو گے۔انہوں نے کہا ہاں ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔کہ بتاؤ تو تمہارا باپ کون ہے ان لوگوں نے کہا فلاں شخص۔آپ نے فرمایا جھوٹے تمھارا باپ تو فلاں شخص ہے۔انہوں نے کہا۔آپ سچ کہتے ہیں۔پھر آپ نے فرمایا۔کہ اگر اب کچھ پوچھوں۔تو مجھے ہے بتا دو گے۔انہوں نے کہا ہاں۔اگر ہم جھوٹ بولیں گئے۔تو اب اسی طرح معلوم کر لیں گے جس طرح آپ نے اب معلوم کر لیا۔اس پر آپ نے ان سے پوچھا کہ دوزخ میں کون لوگ جائیں گے۔انہوں نے کہا ہم لوگ تو تھوڑے ہی دن دوزخ میں رہیں گئے مگر ہمارے بعد آپ لوگ اس میں ہمیشہ رہیں گے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بجد انتہا کے بعد ہم کبھی اس میں نہیں رہیں گے۔پھر آپ نے فرمایا۔کہ اگر اب میں تم سے کوئی بات پوچھوں توسیع کہ دو گے۔انہوں نے کہا بے شک ، آر