مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 488 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 488

۲۸۷ ابوجہل کا قتل حضرت عبید الرحمن بن عوف بیان کرتے ہیں۔کہ میں بدر کے دن صف جنگ میں کھڑا تھا میں نے اپنے دائیں بائیں نظر کی مجھے انصار کے دو کم عمر لڑکے دکھائی دیے۔مجھے اس وقت افسوس ہوا۔اور میں نے دل میں کہا۔کاش میرے دونوں طرف کوئی مضبوط آدمی ہوتے ہیں اسی خیال میں تھا۔کہ ان میں سے ایک نے مجھ سے پوچھا۔کہ چچا آپ ابو جہل کو پہچانتے ہیں ؟ میں نے کہا۔ہاں مگر تمہیں اس سے کیا کام۔لڑکے نے کہا میں نے سُنا ہے کہ وہ کم بخت آنحضرت مصلی باشد علیہ وسلم کو بہت گالیاں دیا کرتا تھا، اور مجھے اس خدا کی قسم میں کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر میں اس کو دیکھ لوں تو میں اس کو نہ چھوڑوں۔پھر خواہ وہ مر جائے خواہ ہیں۔عبد الرحمن بن عوف کہتے ہیں کہ میں نے اس لڑکے کی بات سن کر بہت تعجب کیا۔اتنے میں دوسری طرف کے لڑکے نے بھی ایسی ہی گفتگو مجھ سے کی۔مجھے اور حیرانی ہوئی۔تھوڑی دیر میں مجھے ابو جہل بھی نظر آگیا۔کہ اپنے شکر میں ادھر ادھر انتظام کرتا پھرتا تھا۔میں نے اسے دیکھ کر ان لڑکوں سے کہا۔کہ دیکھو وہ سامنے ابو جہل ہے۔جسے تم پوچھتے تھے۔میرے منہ سے یہ بات نکلنی تھی۔کہ وہ شیر کی طرح اُڑے اور تلواریں کھینچ کر ابو جہل پر ٹوٹ پڑے اور اپنی تلوار میں اُسے ماریں کہ وہ مردہ سا ہو کہ گیر پیڑا۔پھر وہ دونوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یارسول اللہ ہم نے ابو جہل کو قتل کر دیا۔آپ نے فرمایا۔تم دونوں میں سے کسی نے۔ہر ایک نے عرض کیا کہ حضور میں نے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تم نے اپنی تلواریں پونچھ ڈالی ہیں۔انہوں نے کہا۔نہیں۔آپ نے فرمایا۔لاؤ اپنی تلواریں دکھاؤ۔چنانچہ آپ نے ان کا ملاحظہ فرما کہ فیصلہ دیا۔کہ تم دونوں نے مل کر اسے مارا ہے۔ان دونوں لڑکوں کے نام معاد اور معوذ تھے۔