مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 468
۴۶۷ اس میں رونے کی کون سی بات ہے۔اچھا ہوا جو اس بندے نے دنیا کو چھوڑ کر آخرت کو پسند کر لیا۔( مگر بعد میں صحابہ کو معلوم ہوا کہ اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنا ذکر کیا تھا۔یعنی یہ کہ خدا نے مجھے اختیار دیا کہ چاہو تو دنیا میں رہو۔چاہے اللہ کی طرف سفر اختیار کرو۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کو اختیار کر لیا۔اور چونکہ حضرت ابو بکر صدیق رضہ سب سے زیادہ علم اور معقل والے تھے اس لئے وہ فوراً بات کی تہ کو پہنچ گئے حضرت ابو بکرنہ کے اس رونے پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اسے ایونکر نہ روڈ۔اسے لوگر اگر سب سے زیادہ مجھ پر کسی کا احسان ہے تو ابو بکر کا ہے۔سب سے زیادہ ابو بکر نے مجھ پر اپنا مال اور اپنا وقت قربان کیا ہے۔اگر میں کسی کو خدا کے سوا جانی دوست بنانا تو ابو بکریم کو ہی بناتا۔ہاں وہ میرے اسلامی بھائی اور پیارے ہیں۔دیکھو مسجد میں جین جین لوگوں کے دروازے کھلتے ہیں۔سب کو بند کر دو۔صرف ایک ابو بکر کا دروازہ کھلا رہے۔رض رقم شمار کی شہادت کی خبر دینیا جن دنوں مسجد نبوی بن رہی تھی اور صحا یہ تو ایک ایک اینٹ اٹھاتے تھے۔اور عمارین یا سر دو دو اٹھا کر لاتے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کی محنت کو ملاحظہ فرمایا۔تو محبت سے ان کی مٹی جھاڑنے لگے۔اور فرمایا افسوس اسے شمار تجھے ایک باغی گروہ قتل کرے گا۔تو ان کو جنت کی طرف بلاتا ہوگا۔اور وہ تجھے دونرخ کی طرفف ملاتے ہوں گے۔(چنانچہ ایسا ہی ہوا۔حضرت عمار حضرت علی کی خلافت کے زمانہ میں ان کی طرف سے باغیان خلافت سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے) تو جی کر تب مسجد میں ایک دفعہ مشی گن کے باز مدینہ میں آئے۔اور اپنا فن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو