مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 437
ا عرب کے لوگ ایک دوسرے کے سامنے ننگے ہو جانے کو عیب نہیں سمجھتے تھے۔بلکہ خانہ کعبہ کا طواف بڑے شوق سے ننگے ہو کہ کیا کرتے تھے۔اس یک رسم کو بھی آنحضرت نے ہی فتح مکہ کے بعد حکماً منع فرمایا ) عرب میں بت پرستی کا رواج دینے والا (زمانہ جاہلیت) حضرت اسماعیل کے زمانہ سے کعبہ میں صرف ایک خدا کی پرستش ہوتی تھی۔اس کے بعد صدیوں تک یہی حال رہا وہاں نہ کوئی بت تھا نہ تصویر۔نہ وہاں کے لوگ جو حضرت اسمعیل کی نسل اور متعلقین میں سے تھے کوئی شرک کرتے تھے۔آخر ایک بد بخت عمرو بن لحمی پیدا ہوا جس نے دوسرے ملکوں میں بت پرستی ہوتے دیکھی تو وہاں سے کئی ثبت مکہ میں لے آیا اور کعبہ میں رکھ دئے اس زمانہ سے قریش میں ثبت پرستی پھیل گئی ہی شخص تھا جس نے میتوں کے نام پر جانور چھوڑنے کی رسم عرب میں ایجاد کی تھی۔پھر توبت پرستی کو وہ ترقی ہوئی کہ خاص کعبہ ہیں۔۳4 بت نصب کر دیئے گئے۔اور حضرت ابراہیم ، اسمعیل ، مریم اور علی علیہم السلام کی تصاویر بھی دیواروں پر بنا دی گئیں۔اور خدائے قدوس کا حرم جنس بتوں کا گھر بن گیا۔آنحضرت نے ایک دفعہ فرمایا۔کہ میں نے جہنم کا نظارہ دیکھا۔تو کیا دیکھتا ہوں کہ عمر بن بھی بھی اس میں بڑا عذاب بھگت رہا ہے لیے ہاتھ (مدینہ) ایک دفعہ آنحضرت صل اللہ علیہ وسلم کی بیبیاں جمع ہو کہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ ہم میں سے کون مرنے کے بعد سب سے پہلے آپ سے ملے گی۔آپ نے فرمایا جس کے ہاتھ سب سے لیے ہیں۔امہات المومینی نے کڑی ہے کہ